مفتی صاحب میرا پیشاب کرنے کا عضو ٹیرھا ہے،جس کی وجہ سے اس میں پیشاب کے کچھ قطرے رہ جاتےہیں اور سجدے میں جاتے وقت وہ نکل جاتے ہیں،کیا اس کی وجہ سے میرا وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز ٹوٹ جائے گی؟
اگر واقعۃً مذکور بیماری کی وجہ سے قطروں کا مسئلہ درپیش ہو تو سائل کو چاہیئے کہ وہ پیشاب کے بعد قطرے نکلنے کا جب اچھی طرح اطمینان ہوجائے تو اس کے بعد وضو کرکے ادائیگئِ نماز کا اہتمام کیا کرے اور اگر اس سلسلہ میں کسی مستند و ماہر حکیم یا ڈاکٹر سے بھی اپنا مستقل علاج کرائے تو یہ زیادہ بہتر ہے،جبکہ قطرے نکلنے کے بعد وضو اور نماز دونوں ٹوٹ جائیں گے۔
کما فی الفتاوی الھندیة: منها ما يخرج من السبيلين من البول والغائط ولو نزل البول إلى قصبة الذكر لم ينقض الوضوء ولو خرج إلى القلفة نقض الوضوء كذا في الذخيرة وهو الصحيح. هكذا في البحر الرائق اھ (1/9/10)۔
وفیه ایضاً: (ومنها) أن ينصرف من ساعته حتى لو أدى ركنا مع الحدث أو مكث مكانه قدر ما يؤدي ركنا فسدت صلاته اھ (194)۔