ایک دوست مجھے اپنے سو گرام سونا رکھنے کی پیشکش کرتا ہے (قیمت 22 ہزار درہم ) ہے، اس کے مساوی رقم کے عوض میں بطور قرض, وہ یہ رقم تین مہینے میں ادا کر یگا۔ نیز اگر سونے کی قیمت تین مہینے میں بڑھ جائے گی مثلاً سو گرام کی قیمت 22000 سے 24000 تک وغیرہ تو وہ اصل قرض کے ساتھ زائد رقم کا نصف بھی ادا کریگا ۔ یا اگر سونے کی قیمت تین ماہ میں گھٹ جائے تو پھر وہ اصل رقم دیگا جو میں نے بطور قرض دیے ۔ کیا قرض دینے کی یہ صورت جائز ہے؟
یہ خالص سودی معاملہ ہے جس سے احتراز لازم ہے اور اگر اپنے قرض پر بطور وثیقہ کچھ لینا پڑ جائے تو اس کی قیمت کے کم زیادہ ہونے سے اس معاملہ پر کچھ فرق نہیں پڑے گا، بلکہ اس صورت میں بھی اپنا دیا ہوا قرض واپس لینا ضروری ہے ۔ اس سے زائد یا کم جائز نہیں۔
ففي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0