وضو

دونوں ہاتھوں سے معذور شخص کے لۓ وضوء ، غسل اور تیمم کے احکام

فتوی نمبر :
1265
| تاریخ :
2005-12-09
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

دونوں ہاتھوں سے معذور شخص کے لۓ وضوء ، غسل اور تیمم کے احکام

محترم! میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ، جس کی وجہ سے میرے بازو حرکت نہیں کر سکتے ، اس لۓ میں وضو نہیں کر سکتا ، میں کس طرح نماز پڑھ سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اگر واقعۃً معذور ہو ، مگر کسی دوسرے شخص مثلاً اولاد اور بیوی وغیرہ کی مدد سے وضو و غسل کر سکتا ہو ، تو اس صورت میں بھی اس پر وضو اور غسل ہی لازم ہے اور جو ایسا کرنے سے بھی عاجز ہو ،اور کوئی دوسرا اجرت لے کر بھی اس کی (وضو اور غسل میں) معاونت پر راضی نہ ہو یا اجرت بہت زیادہ لیتا ہو جو سائل کے بس میں نہیں تو اس صورت میں کسی دوسرے کی معاونت سے تیمم کر کے ان عبادات کو بجالانے کی کوشش کیا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

في الدر المحتار : (من عجز) مبتدأ خبره تيمم (عن استعمال الماء) المطلق الكافي لطهارته لصلاة تفوت إلى خلف (لبعده) و لو مقيما (الی قولہ) (أو لمرض) يشتد أو يمتد بغلبة ظن أو قول حاذق مسلم و لو بتحرك ، أو لم يجد من یوضئه ، فإن وجد و لو بأجرة مثل و له ذلك لا يتيمم في ظاهر المذهب كما في البحرالخ
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله كما في البحر) حاصل ما فيه أنه إن وجد خادما أي من تلزمه طاعته كعبده و ولده و أجيره لا يتيمم اتفاقا اھ (1/ 233)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی نادر جان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1265کی تصدیق کریں
0     1293
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات