السلام علیکم: میں فی الحال کینیڈا میں مقیم ہوں، میں اس بات سے پوری طرح واقف ہوں کہ اسلام نے سود سے بچنے کا حکم دیا ہے، تو میں سود سے پر ہیز کرتا ہوں ،میں ایک گھر کرایہ پر لے رہا ہوں اور میں بینک کے قرضہ کو استعمال کرتے ایک گھر خرید رہا ہوں میں ضمانت کے طور پر ایک بڑی رقم بھی ادا کر رہا ہوں جو رقم میں اپنی بچت کے علاوہ دے سکتا ہوں، میری حالت ایسی ہے کہ میں سود کو کم کرنے کے لیے جتنی جلد ہو سکے اپنے گھر کی قیمت ادا کردوں ، یہ میرے اور میرے گھر والوں کے لیے متوسط رہائش گاہ ہوگی اور میں بینک کی رقم ادھار لیے بغیر ایک گھر نہیں خرید سکتا، برائے مہربانی مجھے مشورہ دیں کہ کیا اس صورت حال کا کوئی متبادل راستہ موجود ہے ؟
سودی قرضہ لینا تو جائز نہیں اس سے احتراز و اجتناب واجب ہے ، البتہ اگر کوئی بینک، اداره یا فرد بلا سود قرض فراہم کر دے یا کوئی فرد و غیره مکان خرید کر اپنے قبضہ میں لے لے اور بعد میں وہ سائل پر ادھار میں مناسب داموں پر فروخت کر دے تو اس طرح کے عقد سے سائل کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور سودی قرض سے بھی نجات حاصل ہو جائے گی ۔
قال الله تعالى : {يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ } [البقرة: 276]
وقال اللہ تعالیٰ: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى } [البقرة: 275]
وفى مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855) والله اعلم بالصواب
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0