وضو

"خفین " کا ترجمہ عام مروّ جہ جرابوں سے کرنا

فتوی نمبر :
11951
| تاریخ :
2011-05-29
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

"خفین " کا ترجمہ عام مروّ جہ جرابوں سے کرنا

السلام علیکم!
آپ کے جواب کے مطابق چمڑے کے موزے (جراب) پر مسح جائز ہے ، لیکن میرے پاس مسلم کی حدیث مبارکہ ہے ، اس میں چمڑے کا ذکر نہیں ہے ، آپ کا جواب اور مسلم شریف کی حدیث مبارکہ منسلک ہے ، براہِ مہربانی اسے دیکھ کر مفید مشورہ دیں ،تاکہ غلط خیالی دور ہو جائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے صحیح مسلم شریف کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے، اس میں ’’مسح علی خفیہ‘‘ کے الفاظ ذکر ہیں ، عربی زبان میں" خف " چمڑے کے موزے کے لۓ ہی استعمال ہوتا ہے ، عام جرابوں کے لۓ "خف " کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ، جیسا کہ المنجد وغیرہ کتبِ لغت اور شروحِ حدیث سے واضح ہے ، لہٰذا ہمارے سابقہ فتوے اور مسلم شریف کی روایت میں کوئی تضاد نہیں ، صرف اتنی بات سے سائل کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ مترجم نے اس لفظ کے ترجمہ میں "چمڑے کا موزہ " نہیں کہا ہے ، بلکہ فقط عرف میں اس لفظ کے عام استعمال اور پڑھنے والے کے فہم پر اعتماد کرکے صرف لفظِ موزہ لکھ دیا گیا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی أحكام القرآن للجصاص : و الأصل فيه أنه قد ثبت أن مراد الآية الغسل على ما قدمنا ، فلو لم ترد الآثار المتواترة عن النبي صلى الله عليه و سلم في المسح على الخفين لما أجزنا المسح ، فلما وردت الآثار الصحاح و احتجنا إلى استعمالها مع الآية استعملناها معها على موافقة الآية في احتمالها للمسح و تركنا الباقي على مقتضى الآية و مرادها ; و لما لم ترد الآثار في جواز المسح على الجوربين في وزن ورودها في المسح على الخفين ابقينا حكم الغسل على مراد الآية اھ (2/ 440)۔
و فی التاتارخانیة : أما المسح علی الجورب فلا یخلوا أن یکون الجورب رقیقاً غیر منعل و فی هذا الوجه لا یجوز المسح بلا خلاف اھ (۱/ ۲۶۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علی طیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11951کی تصدیق کریں
0     636
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات