السلام علیکم!
آپ کے جواب کے مطابق چمڑے کے موزے (جراب) پر مسح جائز ہے ، لیکن میرے پاس مسلم کی حدیث مبارکہ ہے ، اس میں چمڑے کا ذکر نہیں ہے ، آپ کا جواب اور مسلم شریف کی حدیث مبارکہ منسلک ہے ، براہِ مہربانی اسے دیکھ کر مفید مشورہ دیں ،تاکہ غلط خیالی دور ہو جائے۔
سائل نے صحیح مسلم شریف کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے، اس میں ’’مسح علی خفیہ‘‘ کے الفاظ ذکر ہیں ، عربی زبان میں" خف " چمڑے کے موزے کے لۓ ہی استعمال ہوتا ہے ، عام جرابوں کے لۓ "خف " کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ، جیسا کہ المنجد وغیرہ کتبِ لغت اور شروحِ حدیث سے واضح ہے ، لہٰذا ہمارے سابقہ فتوے اور مسلم شریف کی روایت میں کوئی تضاد نہیں ، صرف اتنی بات سے سائل کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ مترجم نے اس لفظ کے ترجمہ میں "چمڑے کا موزہ " نہیں کہا ہے ، بلکہ فقط عرف میں اس لفظ کے عام استعمال اور پڑھنے والے کے فہم پر اعتماد کرکے صرف لفظِ موزہ لکھ دیا گیا ہے۔
فی أحكام القرآن للجصاص : و الأصل فيه أنه قد ثبت أن مراد الآية الغسل على ما قدمنا ، فلو لم ترد الآثار المتواترة عن النبي صلى الله عليه و سلم في المسح على الخفين لما أجزنا المسح ، فلما وردت الآثار الصحاح و احتجنا إلى استعمالها مع الآية استعملناها معها على موافقة الآية في احتمالها للمسح و تركنا الباقي على مقتضى الآية و مرادها ; و لما لم ترد الآثار في جواز المسح على الجوربين في وزن ورودها في المسح على الخفين ابقينا حكم الغسل على مراد الآية اھ (2/ 440)۔
و فی التاتارخانیة : أما المسح علی الجورب فلا یخلوا أن یکون الجورب رقیقاً غیر منعل و فی هذا الوجه لا یجوز المسح بلا خلاف اھ (۱/ ۲۶۷)۔