السلام علیکم!
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ "جب تم معافي مانگو گے تو میں تمہیں معاف کر دونگا" اس پر میرا اور آپ کا یقین ہے"۔ میں نے ایک گناہ کا ارتکاب کیا ہے ، وہ یہ کہ میں نے ایک شخص کا سامان غیر قانونی طور پر حاصل کر لیا حتی کہ وہ ابھی تک اُس چیز کے بارے میں نہیں جانتا، لیکن اب میں برا محسوس کرتا ہوں اور میں نے توبہ کرنا بھی شروع کردی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس وقت تک معاف نہیں کرینگے جب تک میں وہ سامان اس شخص کو واپس نہ کر دوں ، لیکن میں یہ سامان واپس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھنا اور وہ سامان لوٹانے کے لئے مجھے تین تا 5 سال تک پیسے کمانے پڑیں گے، آپ بتائیں مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟
اگر وہ شئی مغصوبہ سائل کے پاس موجود نہ ہو تو اس کی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے اس کی قیمت اصل مالک تک لوٹا نا لازم ہے اب اگر متعلقہ شخص کے ساتھ ماہانہ قسطوں کا معاملہ کیا جائے اور وہ بھی اس پر راضی ہو تو ایسا کر سکتے ہیں اور یہ شرعاً بھی جائز ہے اور اگر اسے بتانے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو بغیر بتائے غیر محسوس طریقے سے دے سکتے ہیں۔
كما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: للغصب أحكام ثلاثة: الإثم لمن علم أنه مال الغير، ورد العين المغصوبة مادامت قائمة، وضمانها إذا هلكت (الى قوله ) وكيفية الضمان أو قاعدته: أنه يجب ضمان المثل باتفاق العلماء إذا كان المال مثلياً، وقيمته إذا كان قيمياً، فإن تعذر وجود المثل وجبت القيمة للضرورة. (الى قوله) يخرج الغاصب عن عهدة الضمان بأحد أربعة أمور: الأول ـ رد العين المغصوبة إلى صاحبها ما دامت باقية بذاتها، ولم تشغل بشيء آخر.الثاني ـ أداء الضمان إلى المالك أو من يقوم مقامه؛ لأنه المطلوب أصالة. الثالث ـ الإبراء عن الضمان، إما صراحة مثل: أبرأتك عن الضمان أو أسقطته عنك أو وهبته منك ونحوه، أو يجري مجرى الصريح: وهو أن يختار المالك تضمين أحد الغاصبين، فيبرأ الآخر؛ لأن اختيار تضمين أحدهما إبراء للآخر ضمناً (دلالة). (6/ 4798) (6/ 4801) (6/ 4805)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0