میں انگلینڈ میں رہتا ہوں اور میں اپنے رشتہ دار لڑکی سے شادی کے بعد یہاں منتقل ہوا۔ ہم ایک خاص مدت تک اکٹھے رہے اور ہماری ایک بچی بھی اس نکاح کے نتیجہ میں ہوئی، اب وہ میرے مخالف ہوگئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں جبکہ میں ایسا کرنے پر راضی نہیں ہوں، لیکن ابھی حال ہی میں ، میں نے ایک نوٹس وصول کیا اپنی بیوی کی جانب سے وہ چاہتے ہیں کہ میں اس نوٹس پر دستخط کروں اور طلاق کالفظ نہ کہوں تو کیا اس طرح کرنے سے طلاق واقع ہوجائے گی؟ اوروہ طلاق یافتہ ہوجائے گی؟ میں آپ کی جانب سے جلد جواب کا منتظر ہوں شکریہ۔
واضح ہوکہ طلاق نامہ پر محض دستخط کرنے سے بھی وہ تمام طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں جو طلاق نامہ میں درج ہوں، لہذا اگر سائل اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تو اُس پر لازم ہے کہ مذکورہ تحریر پر دستخط کرنے سے مکمل احتراز کرے ۔
جبکہ مذکور طلاق نامہ کی کاپی اگر اسکین کرکرکے ای میل کردی جائے تو اس تحریر کے متعلق بھی حکم شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
کما فی الھندیہ: وان کانت مرسومة یقع الطلاق نوی او لم ینو(۱: ۳۷۸)