وضو

وضوءمیں پاؤں دھوناہے یامسح کرنا؟

فتوی نمبر :
11070
| تاریخ :
2011-02-25
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

وضوءمیں پاؤں دھوناہے یامسح کرنا؟

السلام علیکم! ہمارے ایک دوست کی اطلاع ہے کہ قرآن مجید میں وضو کا جو طریقہ موجود ہے، اس کے مطابق پاؤں کا اور سر کا مسح کرنا چاہیے، جبکہ یہاں پاؤں کو پانی سے دھویا جاتا ہے اور قرآن مجید کے ترجمہ میں دھونے کا فقط بریکٹ میں ہے اور عربی میں مسح کرنا کہا گیا ہے ۔ جلدی جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن کریم کی مذکور آیت میں پاؤں سے متعلق نہ ہی غسل کا لفظ موجود ہے نہ مسح کا، اس لیے یہ دیکھنا پڑےگا کہ حضورﷺ اور صحابہ کرام علہیم الراضوان کا اس مسئلہ کے متعلق کیا طرزِ عمل رہا، چنانچہ نبی کریمﷺ کا طرزِ عمل ہمیشہ پاؤں دھونے کا رہا ہے، اس لیے اس آیت میں بھی دھونا ہی مراد ہے، لہٰذا کوئی واضح لفظ نہ ہونے کی وجہ سے دھونے کا لفظ بریکٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی أحكام القرآن للجصاص: وقد ورد البيان عن الرسول صلى الله عليه وسلم بالغسل قولا وفعلا فأما وروده من جهة الفعل فهو ما ثبت بالنقل المستفيض المتواتر أن النبي صلى الله عليه وسلم غسل رجليه في الوضوء ولم يختلف الأمة فيه فصار فعله ذلك وأراد مورد البيان وفعله إذا ورد على وجه البيان فهو على الوجوب فثبت أن ذلك هو مرادالله تعالى بالآية وأما من جهة القول فما روى جابر وأبو هريرة وعائشة وعبد الله بن عمر وغيرهم أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى قوما تلوح أعقابهم لم بصبها الماء فقال ويل للأعقاب من النار أسبغوا الوضوء وتوضأ النبي صلى الله عليه وسلم مرة مرة فغسل رجليه وقال هذا وضوء من لا يقبل الله له صلاة إلا به (إلی قوله) يوجب استيعابهما بالغسل لأن الوضوء اسم للغسل يقتضي إجراء الماء على الموضع والمسح لا يقتضي ذلك اھ (3/ 351) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 11070کی تصدیق کریں
0     671
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات