میں اس وقت سال یا آٹھ سال کا تھا جب میرے سامنے میری بڑی بہن نے نادانستہ طور پر (جس وقت وہ انتہائی غصہ میں تھی، اور روٹھ کر میکے آئی ہوئی تھی، اور پھر والدہ نے بھی اس کے ساتھ لڑائی کرکے اسے طعنے دئیے تو وہ والدین کا گھر بھی چھوڑ کر جارہی تھی، تو میں اس کے پیچھے پیچھے جانے لگا، اور تقریباً روتے ہوئے اسکو واسطے دئیےکہ باجی مت جائیں، پھر میں نے انہیں حضرت محمد ﷺ کا واسطہ دیا کہ نہ جاؤ، کیونکہ وہ ہم سب میں بڑی تھیں، تو اس وقت اس نے غصہ کی حالت میں) نعوذباللہ حضرت محمد ﷺ کو گالی دے ڈالی، اس کے بعد وہ تائب بھی ہوئی، اس نے معافی بھی مانگی، اور نماز روزے کی پابندی بھی کرتی ہے، اس بات کو تقریباً بیس یا بائیس سال گزر چکے ہیں، اب جیسے جیسے مجھے توہین رسالت کا خیال آتا ہے مجھے بہت اضطراب ہوتا ہے، اب بھی میں اس سے طوعاً و کرہاً بہن بھائی کا رشتہ نبھا رہا ہوں، جناب اس وجہ سے کہ اس نے غیر مسلموں کی طرح سوچ سمجھ کر توہین رسالت نہیں کی، کیونکہ وہ اگر کرتے ہیں تو اس پر قائم رہتے ہیں، مسلمان تو کوئی ایسی بات سوچ بھی نہیں سکتاکہ وہ توہین رسالت کرے، چونکہ بات کافی پرانی ہوچکی ہے، اب کئی بار میں سوچتا ہوں کہ اس بات کا کسی سے ذکر کروں ، لیکن پھر ڈرتے ہوئے نہیں کرتا کیونکہ یہ بات یا وہ جانتی ہے یا میں جانتا ہوں، کبھی کبھی میں اس کے غرق ہونے کی دعائیں کرتا ہوں، کہ اللہ اسکو کتےجیسی موت دے، لیکن بھائی بہن کا رشتہ خالصتاً قدرتی ہوتا ہے، تو میں ایک انتہائی اضطراب کی کیفیت میں ہوں،کیا دانستہ اور نادانستہ طور پر شرک کرنے میں فرق ہے؟ یا دانستہ گستاخی اور غیر دانستہ گستاخی کرنے میں فرق ہے؟ براہ مہربانی مجھے جلدی بتایا جائے کہ میں کیا کروں؟ میری روح کو قرار نہیں آرہا۔
جب اس نے اپنے اس گستاخانہ کلام پر ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کرلی ہے توہ بہرحال مسلمان ہے، اب اس سے رشتہ توڑنے اور اس کے لئے بدعائیں کرنے سے احتراز چاہیئے، البتہ تجدید ایمان اور توبہ و استغفار کی طرح اس پر تجدید نکاح بھی لازم ہے، جبکہ دانستہ اور نادانستہ گناہ میں بلاشبہ عند اللہ فرق ہے۔
کمافی الشامیۃ: (قوله: وليس) أي النسيان عذرا في حقوق العباد أي من حيث ترتب الحكم على فعله فلو أكل الوديعة ناسيا ضمنها أما من حيث المؤاخذة في الآخرة فهو عذر مسقط للإثم كما في حقوقه تعالى الخ (ج2 صـ395، ط: دار الفکر)۔
وفی رسائل ابن عابدین: فظھر قطعاً من کلامہ ان قبول التوبۃ بمعنی انہ لایقتل ھو قول ابی حنیفۃ و اصحابہ و الثوری و اھل الکوفۃ و الاوزاعی (الی قولہ) فقد تحرر من ذلک بشھادۃ ھؤٰلاء العدول الثقات المؤتمنین ان مذھب ابی حنیفۃ قبول التوبۃ الخ (ج1 صـ333)۔
واللہ اعلم بالصواب
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1