السلام علیکم! گزارش یہ ہے کہ میرا 40 گز کا مکان فروخت ہو چکا ہے، ٹوٹل 14,35,000 روپے میں۔ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، تینوں شادی شدہ ہیں، جائیداد کی فروخت کے بعد تقسیم کے حوالے سے فتویٰ لینا ہے، لہذا برائے مہربانی فتویٰ دے کر شکریہ کا موقع دیں۔ میں اور زوجہ، دونوں کا اور تینوں بچوں کا حصہ دین کی روشنی میں بتا دیں، بیشک اللہ مدد گار ہے۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں، مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل، اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے؛ وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے۔ اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔ لہذا سائل کے ذمہ بھی جائیداد کی فروخت کے بعد ملنے والی رقم (14,35,000) اپنی اولاد میں تقسیم کرنا لازم نہیں؛ البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے اس رقم کو اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائے گا، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی اور بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر، بقیہ رقم اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دے دے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، زبانی کلامی بول دینا کافی نہیں۔ پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں بیٹے اور بیٹی کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم، کسی کو زیادہ نہ دے کہ دونوں ہی اس کی اولاد ہیں؛ تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
کما قال اللہ تعالی: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ الآیۃ (آیۃ:90،سورۃ النحل)
و فی صحیح مسلم:عن النعمان بن بشير قال: تصدق علي أبي ببعض ماله، فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانطلق أبي إلى النبي ﷺ ليشهده على صدقتي، فقال له رسول الله ﷺ: أفعلت هذا بولدك كلهم؟ قال: لا. قال: اتقوا الله واعدلوا في أولادكم. فرجع أبي فرد تلك الصدقة .اخ(باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة،ج:5،ص:65،ط: دار الطباعة العامرة)
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ،ج:6 ،صـ :127، ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ،ج:6،ص: 691-690 ،ط: سعید)
و فیہ ایضاً: أنه صرح في الظهيرية بأنه لو أراد أن يبر أولاده فالأفضل عند محمد أن يجعل للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف يجعلهما سواء وهو المختار۰اھ(مطلب في المصادقة على النظر،ج:4،ص:445،ط:سعید)