السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مرحوم جاوید اقبال کی وفات 23-06-2026 کو ہوئی ہے،مرحوم جاوید اقبال کی پہلی بیوی کا نام ثریا ناز اعوان ہے، مرحوم نےاپنی پہلی بیوی کو 1998 میں طلاق دی تھی، پہلی بیوی ثریا ناز سے مرحوم کا ایک بیٹا ہے، جس کی عمر اس وقت تقریبا ً دو سال تھی اور اب مرحوم کے بیٹے محمد فیصل اعوان کی عمر تقریباً 29 سال ہے، مرحوم کے بیٹے کا شناختی کارڈ اور FRC بھی مرحوم جاوید اقبال کے نام سے ہی بنا ہوا ہے۔ مرحوم جاوید اقبال نے اپنی پہلی بیوی ثریا ناز کو طلاق دینے کے کچھ عرصہ بعد دوسری شادی کر لی تھی، دوسری بیوی کا نام گلشن بی بی ہے، مرحوم نے اپنی دوسری بیوی گلشن بی بی کے ساتھ تقریباً 20 سال کا عرصہ گزارا ہے ، دوسری بیوی گلشن بی بی سے ان کی کوئی بھی اولاد نہیں ہے، مرحوم نے اپنی حیات زندگی میں اپنا رہائشی گھر اپنی دوسری بیوی گلشن بی بی کے نام کر دیا تھا ،جو کہ ایک عام سے اسٹام پیپر پر ہوا ہے، لیکن میری سوتیلی ماں گلشن بی بی میرے والد صاحب کی حیات میں کہتی تھی کہ میں آپ کو آپ کا حصہ ضرور دوں گی، اس بات کا اعتراف انہوں نے خاندان کے کافی لوگوں کے سامنے کیا تھا کہ میں مرحوم کے بیٹے کو حصہ ضرور دوں گی ،میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میری سوتیلی والدہ ان تمام باتوں سے مکر گئی کہ میں آپ کو مکان میں کوئی بھی حصہ نہیں دوں گی ۔جناب محترم صاحب ! ہمیں اس چیز کا فتوی دیا جائے کہ آیا مرحوم نے اپنی حیات میں اپنی جائیداد اپنی دوسری بیوی گلشن بی بی کے نام کر دی تھی، مرحوم کی پہلی بیوی ثریا ناز سے جو بیٹا ہے اب اس کو اس جائیداد میں سے شرعی اعتبار سے کتنا حصہ بنتا ہے ،آپ ہماری رہنمائی کریں، اللہ آپ کو جزاء خیر دے ۔
(نوٹ) یہ مکان والد صاحب نے صرف کاغذات میں ان کے نام کر دیا تھا، باقاعدہ کوئی قبضہ نہیں دیا ،بلکہ خود تاحیات اسی مکان میں رہتے رہیں۔ دادا ،دادی پہلے انتقال کر گئے ہیں۔
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کسی کے نام صرف کاغذات میں منتقل کر دے، لیکن اس کو اس جائیداد پر مکمل قبضہ اور تصرف نہ دے، بلکہ خود ہی تاحیات اس جائیداد پر قابض رہے اور مالکانہ تصرف کرتا رہے، تو محض کاغذات میں نام منتقل کردینے سے شرعاً ہبہ مکمل نہیں ہوتا، بلکہ ہبہ کے مکمل ہونے کے لئے موہوب لہ (جس کے نام جائیداد کی گئی ہو) کا حقیقی قبضہ ضروری ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے والد مرحوم نےمذکور مکان صرف کاغذات میں اپنی دوسری اہلیہ گلشن بی بی کے نام کیا ہو، انہیں اس پر مستقل قبضہ اورتصرف کااختیار نہ دیاہو، بلکہ خود اپنی وفات تک اسی مکان میں بطور مالک رہتے اور تصرف کرتے رہےہوں ، تو شرعاً یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا، چنانچہ مذکور مکان بدستور مرحوم کی ملکیت ہے جوان کے انتقال کے بعددیگرترکہ کے ساتھ شامل ہوکر ان کےتمام شرعی ورثاء(بیوہ اور بیٹے ) میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: ( وتتم)الهبة( بالقبض)الكامل(ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔الخ(كتاب الهبة، ج:5، ص:690، مط:سعید)
وفی الفتاوىٰ الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغیرالموھوب اھ (الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها، ج:4، ص:374، مط: ماجدیۃ)۔