نام رکھنے کا حکم

زاعم اور زعیم نام رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
95898
| تاریخ :
2026-06-01
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

زاعم اور زعیم نام رکھنے کا حکم

میں اپنے بیٹے کا نام "زاعم" (Zayem) رکھنا چاہتا ہوں۔ اس نام کی درست ادائیگی کیا ہوگی؟ کیا اسے "زاعم" (Zayem) پڑھا جا سکتا ہے، یا "زعیم" (Zaeem) ہی پڑھا جائے گا، جیسے "زاعم" پڑھا جاتا ہے؟ کیونکہ میرا مقصد نام "زعیم" رکھنا نہیں، بلکہ "زاعم" رکھنا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ بچوں کے نام انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم یا دیگر نیک اور اچھے معنیٰ رکھنے والے ناموں پر رکھنا پسندیدہ اور مستحب ہے۔سوال میں ذکر کردہ دو ناموں میں سےزعیم نام کے معنی: "قوم کا سردار اور ذمہ دار" کے ہیں،،جبکہ زاعم نام کے معنی:"شک یا جھوٹ کی بنیاد پر دعوی کرنے والا،بے بنیاد بات کہنے والا" کے ہیں،لہٰذا "زعیم" نام رکھنا درست ہے۔تاہم "زاعم "نام نہیں رکھنا چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

«المنجد في اللغة» :
«وزعِيم القوم: رئيسهم المُتَكلِّم عنهم.»(ص220)
«العين»للخليل بن أحمد الفراهيدي :
«وزعيم القوم: سيدهم ورأسهم الذي يتكلم عنهم.»(1/ 364)
«أساس البلاغة»للزمخشري :
«زعم فلان أن الأمر كيت وكيت زعماً وزعما ومزعماً إذا شككت أنه حق أو باطل وأكثر ما يستعمل في الباطل، وزعموا مطيّة الكذب.»(1/ 415)
«لسان العرب» :
«وقال الليث: سمعت أهل العربية يقولون إذا قيل ذكر فلان كذا وكذا فإنما يقال ذلك لأمر يستيقن أنه حق، وإذا شك فيه فلم يدر لعله كذب أو باطل قيل زعم فلان، قال: وكذلك تفسر هذه الآية: فقالوا هذا لله بزعمهم ؛ أي بقولهم الكذب،»(12/ 264)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95898کی تصدیق کریں
0     50
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات