نام رکھنے کا حکم

بچوں کے نام رکھنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
5494
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

بچوں کے نام رکھنے کا طریقہ

السلام علیکم ! بچوں کا اسلامی نام رکھنے کا کیا طریقہ ہے ؟ تاریخ پیدائش سے جو حروف تہجی بتائے جاتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟ ۔ منیر کراچی

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن یا پیدائش کے فوراً بعد ایسا نام جو عبدیت اور بندگی کے معنی پر مشتمل ہو یا انبیاء و صلحاء میں سے کسی کا نام ہو یا کم از کم صحیح معنی و مفہوم پر مشتمل وہ تجویز کر لیا جائے، جبکہ حروف تہجی وغیرہ طرق سے نام رکھنے کا شریعت مطہرہ میں کوئی حکم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه اھ (2/ 939)
وفي مصنف ابن أبي شيبة: عن عمرو بن شعيب: «أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بالعقيقة يوم السابع للمولود، ووضع الأذى، وتسميته» (5/ 115)
وفي اعلام السين: قلت: والمراد والله اعلم ان الوخر التسمية عن السابع فقد عرفت أنهﷺابنه ابراهيم لیلة ولد وهو متفق عليه (۱۷/ ۱۲۲)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 5494کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات