نام رکھنے کا حکم

الیزا نام رکھنا

فتوی نمبر :
7010
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

الیزا نام رکھنا

میں ایک مسلمان ہوں،کیا میں اپنی لڑکی کا نام الیزا رکھ سکتی ہوں؟مہربانی فرماکر اس کے معنیٰ بھی بتائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

الیزا"عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کی اصل "الیز بتھ"ہے یہ بمعنیٰ خدا کی قسم کے ہے،اور اسی طرح بمعنی خوشی بھی آتا ہے،اس لئے کسی بچی کا"الیزا"نام رکھنا خواہ کسی دوسری زبان کا ہی کیوں نہ ہو جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی المشکوۃ:عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ ﷺ تدعون یوم القیامة باسمائکم واسماء ابائکم فاحسنو اسمائکم۔(408)
وفی الفتاویٰ الھندیہ:وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط اھ (5/362)۔ واللہ اعلم بالصوا ب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 7010کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات