مفتی صاحب میں صبح فجر کی نماز کے بعد بستر پر سونے کے لیے لیٹا تھا، ساتھ الگ چارپائی پر میری امی لیٹی ہوئی تھی، میں ایک کروٹ پر لیٹا تھا میرا منہ میری ماں کی طرف نہیں تھا ،میرے دل میں اچانک غیر محرم کے بارے میں وسوسے آئے اور مجھے شہوت آ گئی اور میری ماں نے مجھے بازو پر پکڑا اور کُچھ اس طرح کہا کہ اس طرف ہو جاؤ ،یا اس طرف پنکھے کے نیچے ہو جاؤ، اب مجھے یاد نہیں کہ امی نے کیا کہا تھا۔
مفتی صاحب میرے دل میں کوئی برا خیال اپنی ماں کے بارے میں نہیں تھا اور نہ ہی ماں کے بارے میں برا ارادہ تھا اور نا ہی میں نے ماں کو چھوا جس وقت ماں نے مجھے بازو سے پکڑا میرے جسم پر شلوار قمیض تھی کپڑے کی وجہ سے ایسے لگتا ہے کے میرے ماں کا میرے بازو کو پکڑے کا اثر کپڑے کی وجہ سے جسم کو محسوس نہیں ہوا مفتی صاحب بتا دے اس سے حرمت مصاہرت تو ثابت نہیں ہوئی؟
سوال میں سائل نے جو تفصیل ذکر کی ہے اس کے مطابق حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ،چنانچہ سائل کے والدین حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں،تاہم اگر سائل کو اپنے آپ پر قابو نہ ہو تو اسے آئندہ کے لئے احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔
کمافی الھندیۃ:
«وإذا نظر الرجل فرج ابنته بغير شهوة فتمنى أن يكون له جارية مثلها فوقعت منه شهوة مع وقوع بصره قالوا إن كانت الشهوة وقعت على ابنته حرمت عليه امرأته وإن كانت الشهوة وقعت على التي تمناها لا تحرم؛ لأن نظره في هذه الصورة إلى فرج ابنته لم يكن عن شهوة، كذا في فتاوى قاضي خان والذخيرة.»(ج:1،ص:274،ط:المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ ببلاق مصر)
وفیہ ایضاً:
«ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة.»(ج:1،ص:275،ط:المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ ببلاق مصر)