میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا،لیکن تھوڑے عرصے بعد مجھے حرمتِ مصاہرت کا پتہ چلا تو میں سوچ میں پڑ گیا کیونکہ بچپن میں تقریباً چودہ سال کی عمر میں،میں نے شہوت سے اپنی ساس کو چھوا تھا،آیا کہ اب میرا نکاح صحیح ہے کہ نہیں اور میں ذہنی طور پر بہت پریشان ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ مذہب حنفی سے مذہب مالکی یا شافعی میں چلا جاؤں،کیونکہ اگر میں نے اپنی بیوی کو اس وجہ سے چھوڑا تو خاندان ٹوٹ جائے گا اور جینا مرنا ختم ہوجائے گااور معاشرے میں بہت بےعزتی ہوگی،گزارش ہے کہ کوئی مشورہ دے کہ میں کیا کروں؟
نوٹ: سائل نے (14) سال کی عمر میں ساس کو شہوت کے ساتھ کمر پر چھوا تھا،درمیان میں کوئی کپڑا حائل نہ تھا اور ایک دفعہ چھاتی پر، اس وقت قمیص حائل تھی۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب سائل نے 14 سال کی عمر میں اپنی ساس کو شہوت کے ساتھ بلاحائل چھوا تھا اور اسی وقت انزال (منی نکلنا) بھی نہ ہوا ہو،تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوچکی تھی اور مذکورہ عورت(سائل کی ساس) کی بیٹی سائل پر حرام ہوچکی تھی،اس کے بعد لاعلمی میں کیا جانے والا نکاح چونکہ نکاحِ فاسد ہے،اس لئے سائل پر لازم ہے کہ فی الفور توبہ واستغفار کے ساتھ اپنی بیوی کو الفاظِ متارکت کے "میں تمہیں چھوڑتا ہوں"وغیرہ کہہ کر الگ کر دے،تا کہ وہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
البتہ سائل کو اگر مذکور واقعہ خاندان میں بتانے سے بدنامی کا ڈر ہوتو بدنامی سے بچنے کیلئے یہ حیلہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ کسی بات کو بنیاد بنا کر ظاہری طور پر لڑائی جھگڑے کی صورت اختیار کرکے بیوی کو تین طلاق دیدے،ایسی صورت میں عدت گزرنے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الفتاوی الھندیة: ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة اھ(1 /275)۔