السلام علیکم! میں کچھ دن پہلے اپنی منگیتر کے ساتھ بیٹھا تھا کہ میرا آلۂ تناسل کھڑا ہو گیا، اور اُسی وقت میری منگیتر کی ماں بھی آگئی ،تو مجھے اُسی حالت میں انکو ہاتھ ملا کر سلام کرنا پڑا،مہربانی کر کے بتائیں کہ کیا میرا نکاح منعقد ہو جائے گا ؟ میں نے ایک مفتی صاحب سے یہ مسئلہ پوچھا ،انہوں نے کہا کہ اگر سلام کرتے وقت آلۂ تناسل میں زیادتی ہوئی تو پھر نہیں ہو سکتا، جبکہ میرا آلہ تناسل میری منگیتر کی وجہ سے کھڑا ہوا اور میری نیت ساس کی طرف سے بالکل صاف تھی،مہربانی کر کے جواب دے دیں!
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست ہے تو اس صورت میں اگر چہ حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ، مگر منگنی ہو جانے کے باوجود منگیتر باہم غیر محرم ہی رہتے ہیں، اس لئے جب تک نکاح نہ ہو جائے اس قسم کی ملاقات اور باتوں سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: والشهوة تعتبر عند المس والنظر حتى لو وجدا بغير شهوة ثم اشتهى بعد الترك لا تتعلق به الحرمة وحد الشهوة في الرجل أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، كذا في التبيين. وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي. وبه يفتى، كذا في الخلاصة۔اھ (1/ 275)