حضرت اگر کسی کا اپنی سالی یا ساس سے ناجائز رشتہ قائم ہوجائے تو اسلام میں اس کے بارے میں کیا احکامات ہیں جواب ذرا تفصیل سے ہو تو بہت بہتر ہوگا ۔
ناجائز رشتہ سے مراد اگر زنا ہو تو ساس کے ساتھ ناجائز تعلقات کی وجہ سے بیوی ہمیشہ کیلئے حرام ہوجاتی ہے ،جبکہ سالی کا معاملہ مختلف ہے ۔
اور اگر کچھ اور مراد ہو تو تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ای میل کردیں ان شاء اللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائے گا ۔
فی الدر المختار:(و) حرم المصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجة لما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات اھ (3/30)۔
وفیه ایضاً: وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته (لا) تحرم (المنظور إلى فرجها الداخل) إذا رآه (من مرآة أو ماء) لأن المرئي مثاله (بالانعكاس) اھ (3/34)۔ واللہ اعلم بالصواب