حضرت میرا ایک مسئلہ ہے،مہربانی فرما کر وضاحت فرمادیں،کل رات کو میں بیٹی کے ساتھ سویا تھا،جب رات کو میری آنکھ کھلی تو میرا ہاتھ میری بیٹی کی شرمگاہ پر تھا(شلوار کے اندر) مجھے بالکل ہوش نہیں تھا کہ یہ کیسے ہوگیا ، نیند کے غلبہ کی وجہ سے مجھے تھوڑا تھوڑا یاد ہے،میں فوراً دور ہٹ گیا اور بہت شرمندہ بھی ہوا،اس ٹائم مجھے کوئی شہوت نہیں تھی،میری بیٹی کی عمرسات(7) سال ہے،(ابھی سات سال پورا ہونے میں سات دن باقی ہیں) کیا اس صورت میں حرمتِ تو ثابت نہیں ہوتی؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست ہو،اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو تو سات(7) سال کی عمرکی بچی ایسی نہیں جس پر آدمی کو شہوت آتی ہو اور سائل مذکور حالت میں شہوت سے بھی منکر ہے،اس لئے سائل کی اس حرکت سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی،مگر سائل کو چاہیئے کہ آئندہ بچی کو ساتھ سلانے سے اجتناب کرے۔
کمافی الفتاوی الھندیة: ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين. والفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها، كذا في معراج الدراية. وقال الفقيه أبو الليث ما دون التسع سنين لا تكون مشتهاة وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(1/275)۔