۱۔ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی بہن سے زنا کیا ، کیا اس کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح ٹوٹ گیا یا نہیں ؟ اگر اس کی بہن سے جو اولاد ہوئی تو وہ کیا ہے؟
۲۔کسی نے اپنے بیٹے کی بیوی سے زنا کیا ، پھر اس سے اولاد ہو گئی تو اس کا کیا حکم ہے؟
سالی سے زنا کرنا انتہائی قبیح اور بہت بڑا گناہ ہے ، جس سے صدق دل سے توبہ کیے بغیر اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں، مگر اس سے زانی کی بیوی اس پر حرام نہیں ہو گی، اور اس زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب بھی ثابت نہ ہوگا ، بلکہ اگر وہ سالی شادی شدہ ہو تو اس بچے کا نسب اس کے شوہر سے ثابت ہو گا ، ورنہ ولد الزنا کہلائےگا ، ان کی نسبت ان کی ماں (اس زانیہ عورت) کی طرف کی جائے گی۔
جبکہ بہو سے زنا اس سے بھی زیادہ قبیح اور اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی حرکت ہے، اور اس سے زانیہ عورت اپنے شوہر (یعنی اس زانی کے بیٹے) پر ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی ، لیکن اس زانیہ عورت سے جو اولاد ہوگی ، وہ اس زانی مرد کی اولاد نہیں، بلکہ اپنے حقیقی والد ( یعنی اس زانی کے بیٹے ) کی اولا د شمار ہوگی۔
كما فى حاشية ابن عابدين : (قوله : و زوجة أصله و فرعه) لقوله تعالى ﴿و لا تنكحوا ما نكح آباؤكم﴾ [النساء: 22] و قوله تعالى ﴿و حلائل أبنائكم الذين من أصلابكم﴾ [النساء: 23] و الحليلة الزوجة و أما حرمة الموطوءة بغير عقد اھ (3/ 31)-
و فى الدر المختار : و في الخلاصة : وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته اھ (3/ 34)-
و فى حاشية ابن عابدين : و قوله : لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة ، فالمعنى : لا تحرم حرمة مؤبدة ، و إلا فتحرم إلى انقضاء عدة الموطوءة لو بشبهة اھ (3/ 34)-
و فى الفتاوى الهندية : فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها و إن علت و ابنتها و إن سفلت ، و كذا تحرم المزني بها على آباء الزاني و أجداده و إن علوا و أبنائه و إن سفلوا ، كذا في فتح القدير اھ (1/ 274)-
و فی الدر المختار : و بحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة و انقضاء العدة ، و الوطء بها لا يكون زنا اھ (3/ 37)-
و فی حاشية ابن عابدين : تحت (قوله : و الوطء بها إلخ) أي الوطء الكائن في هذه الحرمة قبل التفريق و المتاركة لا يكون زنا قال في الحاوي و الوط ء فيها لا يكون زنا ؛ لأنه مختلف فيه ، و عليه مهر المثل بوطئها بعد الحرمة و لا حد عليه ويثبت النسب . اهـ . (3/ 37)-