اگر کسی عورت کو اس کا سسر ہاتھ سے پکڑ لےاور ہونٹو ں پر بوسہ لینے کی کوشش کرے تو کیا میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوجائے گااور سسر اس کو گلے لگانے کی بھی کوشش کرے؟
واضح ہو کہ اپنی بہو کے ساتھ نا جائز تعلقات قائم کرنا بہت بڑی بے شر می پر مبنی عمل ہونے کے ساتھ شرعاً نا جائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، جس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کےلئے اس قسم کی گھٹیا حرکات سے مکمل اجتناب لازم ہے ، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بہو کو بلا حائل شہوت کے ساتھ چھولے یا ہونٹوں پر بوسہ دیدے اور شوہر بھی اس بات کی تصدیق کر دے تو وہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کےلئے حرام ہوگئی ، اب دونوں کا ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ اس پر لازم ہے کہ بدنامی سے بچنے کےلئے کسی معاملہ کو بنیاد بنا کر لوگوں کے سامنے اپنی بیوی کو غصہ میں تین طلاقیں دید ے ، تا کہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
كما في محيط البرهاني : وكان الشيخ الإمام ظهير الدين رحمه الله يفتي بالحرمة في القبلة على الفم والذقن والخد والرأس وإن كان على المقنعة وكان يقول : لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة، الخ ( الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج 3، ص 66، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و في الدر المختار : (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى الخ ( كتاب النكاح، ج 3، ص 32-33 ، ط : سعيد)-
و في البحر الرائق : والمختار القبول كما في التجنيس وفي فتح القدير وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها ويقع في أكبر رأيه صدقها وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقها أو يغلب على ظنه صدقها ثم رأيت عن أبي يوسف ما يفيد ذلك اهـ. 0( إلى قوله) ورجحه في فتح القدير قال إلا أنه يتراءى على هذا أن الخد ملحق بالفم وفي الولوالجية إذا قبل أم امرأته أو امرأة أجنبية يفتى بالحرمة ما لم يتبين أنه قبل بغير شهوة؛ لأن الأصل في التقبيل هو الشهوة بخلاف المس اهـ ( فصل في المحرمات في النكاح، ج 3، ص 107، ط : دار الكتب الإسلامي)-