السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ اگر سسر بہو کا منہ چومے اور بہو کو علم نہ ہو کہ کس نیت سے منہ چوما گیا ہے اور کئی بار چوما گیا ہو اور بعد میں خود کو چھڑانے کی کوشش بھی کرتی رہی اور سسر نےکبھی سوتے ہوئے چوم لیا ہو ، جبکہ بہو کی رضامندی نہ ہو تو شریعت کا اس حوالے سے کیا حکم ہے ؟
فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق ہونٹوں پر بوسہ دینے کی صورت میں مطلقاً حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے اور اس کے لئے شہوت کے وجود کا اقرار یا انکار معتبر نہیں ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور عورت کا شوہر بھی اگر اپنے والد کے اس عمل کی تصدیق کرتا ہو ، تو اس وجہ سے بہو اور سسر کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہوکر بیوی اپنے شوہر پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی ، جبکہ شوہر پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی بیوی کو الفاظِ متارکت جیسے " میں نے تجھے چھوڑ دیا " وغیرہ کہہ دے تاکہ وہ عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو -
کما فی الھندیۃ : رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة و هي مكرهة و أنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج ، و إن صدقه الزوج و قعت الفرقة و يجب المهر على الزوج و يرجع بذلك على الذي فعل إن تعمد الفاعل الفساد و إن لم يتعمد لا يرجع الخ ۔ (کتاب النکاح ، القسم الثانی ، المحرمات بالصھریۃ و مایقبل بذٰلک، ج،1 ص ، 276 ، ط۔ رشیدیہ )-
و فی رد المحتار تحت : ( قوله : قبل أم امرأته إلخ ) قال في الذخيرة : و إذا قبلها أو لمسها أو نظر إلى فرجها ثم قال لم يكن عن شهوة ذكر الصدر الشهيد أنه في القبلة يفتى بالحرمة ما لم يتبين أنه بلا شهوة و في المس و النظر لا إلا إن تبين أنه بشهوة ؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة بخلاف المس و النظر ، الخ ۔( کتاب النکاح ، فصل فی المحرمات ، ج ، 3 ص ، 35 ، ط۔ ایم سعید )۔-