کیا فرماتے ہیں علماء کرام درجِ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ زید نے نمرہ کے جسم کو بلا حائل مس کیا شہوت کے ساتھ، نمرہ کی عمر اس وقت سات یا آٹھ سال تھی، اس چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں زید کو انزال ہو گیا تھا، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس واقعے کے کافی عرصے بعد زید اپنے بیٹے کا نکاح نمرہ کے ساتھ کرنا چاہتا ہے تو کیا شرعی اعتبار سے یہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کیا زید کی ان شہوانی حرکات کے سبب حرمت مصاہرت ثابت ہوئی یا نہیں ؟ اگر نکاح کرنا جائز ہے تو نکاح کے بعد اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟
صورت مسئولہ میں شخص مذکور کو جب مس کرنے سے انزال ہو گیا تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، لہذا زید اپنے بیٹے کا نکاح نمرہ کے ساتھ کر سکتا ہے۔
کما في الهداية: ولو مس فانزل فقد قيل انه يوجب الحرمة والصحيح اند لایو جبھا لانه بالانزال تبين انه غیر مفض الى الوطى وعلى هذا اتيان المرأة الدبر۔اھ (2/309)