اگر کوئی شادی شدہ آدمی اپنی ساس کے ساتھ زنا کرے، تو اس کا نکاح سلامت رہے گا یا ختم ہو جائے گا ؟
زنا انتہائی درجہ قبیح اورگناہ کبیرہ حرکت ہے،اگر اسلامی حکومت نافذ العمل ہو ،تو ایسے شخص پر ثبوت کے بعد حد جاری کی جاتی،تاہم سوال میں مذکور شخص کے اپنی ساس کے ساتھ زنا کر لینے کی وجہ سے اس کی بیوی اُس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی ہے ،اب حلال ہونے کی صورت نہیں ، لہذا اس شخص پر لازم ہے کہ وہ فوراً اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کے لئے الفاظ متارکہ "میں نے چھوڑ دیا ،طلاق دیدی وغیرہ "بھی بول دے ، تاکہ وہ کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں آزاد ہو اور وہ شخص اپنے گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار بھی کرے ۔
کما في الدر: وحرم المصاهرة ( بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته ) وجداتها مطلقا اھ(3/ 30)۔
وفيه ايضا : وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر الابعد المتاركة وانقضاء العدة اھ (325/3)