اگر کوئی باپ اپنی 11سالہ بیٹی کے جسم اور اعضاء مخصوصہ کو چھوتا ہے ایک دو دوفعہ،چھونے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا تو اسکے بارے میں کیا مسئلہ ہے؟ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں. شکریہ
گیارہ سال کے بیٹی اگرچہ بالغ نہ بھی ہو تب بھی مشتہاۃ (قابل شہوت) ضرور ہوتی ہے، اس لیے اگر کوئی باپ اپنی مشتہاۃ بیٹی کے اعضاء مخصوصہ جسم کی کسی بھی حصہ کو بغیر حائل (کپڑے وغیرہ) کے شہوت کے ساتھ لگائے، یاکپڑے کے ساتھ ہاتھ لگائے ، لیکن کپڑا اس قدر باریک ہوکہ جسم کے حرارت محسوس ، اور اس چھونے کے بعد باپ کی شہوت میں اضافہ ہو،تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوکر اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے ہوجائے گی، اور میاں کو بیوی کو ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لیے علیحدگی اختیارکرنا لازم ہوگی۔ اسی طرح اپنے اس قبیح عمل پر توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس بیٹی سے دور رہنا بھی ضروری ہوگا۔
فی الھندیۃ: (1/274 )
ثُمَّ الْمَسُّ إنَّمَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ إذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ أَمَّا إذَا كَانَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ فَإِنْ كَانَ صَفِيقًا لَا يَجِدُ الْمَاسُّ حَرَارَةَ الْمَمْسُوسِ لَا تَثْبُتُ حُرْمَةُ الْمُصَاهَرَةِ … وَإِنْ كَانَ رَقِيقًا بِحَيْثُ تَصِلُ حَرَارَةُ الْمَمْسُوسِ إلٰى يَدِهِ تَثْبُتُ. اھ
وفیہ ایضا: (1/275)
وَالشَّهْوَةُ تُعْتَبَرُ عِنْدَ الْمَسِّ وَالنَّظَرِ حَتّٰى لَوْ وُجِدَا بِغَيْرِ شَهْوَةٍ ثُمَّ اشْتَهَى بَعْدَ التَّرْكِ لَا تَتَعَلَّقُ بِهِ الْحُرْمَةُ.