السلام علیکم ! میرا سوال ہے کہ اگر کسی مرد کے کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات ہوں اور بعد میں وہ شخص کسی کی ضد میں آکر یا کسی اور وجہ سے اُس عورت سے اُس کی بیٹی کا رشتہ مانگے تو کیا یہ شرعی اور قانونی طور پر حلال ہوگا یا حرام ہو گا ؟ برائے مہربانی شرعی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو مذکور شخص کا کسی عورت کیساتھ ناجائز تعلقات رکھنا شرعاً ناجائز و حرام اور سنگین جرم ہے ،جس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں جس پر انہیں بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اس قبیح عمل سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ مذکورشخص نےاگر اس عورت کے جسم کو بغیر حائل کےشہوت کیساتھ چھوا ہو یا اس کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کیا ہو توایسی صورت میں اسکے لئے اس عورت کی بیٹی کیساتھ نکاح کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ : فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها و إن علت و ابنتها و إن سفلت ، و كذا تحرم المزني بها على آباء الزاني و أجداده و إن علوا و أبنائه و إن سفلوا ، كذا في فتح القدير . (1/274)۔