السلام علیکم مفتی صاحب!
میرا سوال حرمت مصاہرت کے حوالے سے ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں اپنی منگیتر کی والدہ جو کہ ہماری رشتہ دار بھی ہے کیسا تھ بازار سے آرہا تھا، راستے میں چلتے چلتے اچانک پتہ نہیں میرے ذہن میں کیا خیال آیا میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اُنہوں نے چونکہ عبایا پہنا ہوا تھا، اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے اُن کا ہاتھ کلائی کے نیچے سے پکڑا تھا یا اوپر سے یعنی آستین اور عبایا ڈبل کپڑا تھا۔ اب مجھے یاد نہیں پڑھ رہا کہ جو ڈھانپا ہوا حصہ تھا، وہ میں نے پکڑا تھا یا کلائی جو ڈھانپی ہوئی نہیں تھی۔
دوسرا مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ جب میں نے ان کا ہاتھ پکڑا تو میری شہوت میں اضافہ ہوا تھا یا نہیں، میں بہت پریشان ہوں کہ اگر حرمت مصاہرت ثابت ہوئی ہے تو کیا ہوگا؟ ہماری فیملی چونکہ پورے علاقے میں کافی عزت دار فیملی ہے، اگر میرا رشتہ اس بنیاد پر ختم ہوتا ہے توپوری برادری میں ہماری ذلت و رسوائی بھی ہوگی، رشتہ داری سے بات دشمنی پر بھی جا سکتی ہے۔
دوسرا یہ کہ میری والدہ نے بہت چاہت اور محبت سے میرا یہ رشتہ طے کیا ہے ،مجھے یہ ڈر ہے کہ رشتہ ختم ہونے کے سا تھ اگر میری والدہ کو کچھ ہوگیا تو میں جیتےجی ہی مرجاونگا اور میں خود بھی یہ رشتہ ختم نہیں کرنا چاہتا، میں اپنے کیے پر توبہ تائب بھی ہوا ہوں اور انتہائی شرمندہ بھی ہو۔
آپ مفتیان کرام سے التجا ہے کہ میرے لیے کوئی راستہ نکالا جائے تاکہ میرا گھر فیملی میرا رشتہ سب بچ جائے۔ شکریہ
واضح ہو کہ حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے شہوت کا یقین اور عورت کے جسم کو بلا حائل ہاتھ لگانا ضروری ہے ، جبکہ سائل کو دونوں باتوں میں سے کسی ایک بات کا بھی یقین نہیں، بلکہ محض شک ہے ۔ اس لیے محض شک کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی اور سائل کے لیے مذکور عورت کی بیٹی سے نکاح بھی شرعا جائز اور درست ہے۔ تاہم اگر سائل کو اپنے اوپر اعتماد اور کنٹرول نہ ہو تو آئندہ اپنی ہونے والی ساس سے اس طرح کے میل جول اور ان کے جسم کو چھونے سے احتیاط کرے۔
کما فی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وأصل ماسته) أي بشهوة قال في الفتح: وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها اھ (3/ 33)
و في الأشباه والنظائر لابن نجيم: القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك اھ (ص: 47) واللہ اعلم بالصواب