میرے شوہر نے ہماری سگی بیٹی کی قمیص کے اندر ہاتھ ڈال کر اس کے سینے کو غلط طریقے سے چھوا ،فوراً ہی احساس ہوگیا،تو واپس نکال لیا میری بیٹی اس وقت 12 سال کی تھی اور بالغ ہوگئی تھی،اس نے مجھ کو یہ بات دو (2) سال کے بعد بتائی،میں نے شوہر سے بات کی تو وہ رونے لگے،اور بہت معافی مانگی،اب کل میری نظر سے مفتی طارق مسعود صاحب کا بیان گزرا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر باپ نے بیٹی کو شہوت کی نظر سے دیکھا،تو بیوی ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی،اب کیا میرا نکاح ہے یا ختم ہوگیا؟میں بہت پریشان ہوں،آپ رہنمائی فرمائیں ،السلام علیکم
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو اور سائلہ کا شوہر اپنی مذکور غلطی کا اقرار بھی کرچکا ہو تو اس سےحرمتِ مصاہرت ثابت ہوکر سائلہ اپنے شوہر پر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے حرام ہوچکی ہے،اب شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کو متارکت کے الفاظ مثلاً میں نے تمہیں چھوڑدیا وغیرہ کہہ کر بیوی سے علیحدگی اختیار کرے،تاکہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
کمافی الدر المختار: (وفي المس لا) تحرم (ما لم تعلم الشهوة) لأن الأصل في التقبيل الشهوة، بخلاف المس (والمعانقة كالتقبيل) وكذا القرص والعض بشهوة الخ(ج3 ص36 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة، والوطء بها لا يكون زنا، وفي الخانية إن النظر إلى فرج ابنته بشهوة يوجب حرمة امرأته وكذا لو فزعت فدخلت فراش أبيها عريانة فانتشر لها أبوها تحرم عليه أمها (وبنت) سنها (دون تسع ليست بمشتهاة) به يفتى (وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها الخ(ج3 ص36 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين. والفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها، كذا في معراج الدراية.
وقال الفقيه أبو الليث ما دون التسع سنين لا تكون مشتهاة وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان. وحكي عن الشيخ الإمام أبي بكر - رحمه الله تعالى - أنه كان يقول: ينبغي للمفتي أن يفتي في السبع والثمان أنه لا تحرم إلا إن بالغ السائل أنها عبلة ضخمة جسيمة فحينئذ يفتي بالحرمة، كذا في الذخيرة والمضمرات (الی قولہ) ولو أخذ ثديها وقال: ما كان عن شهوة لا يصدق؛ لأن الغالب خلافه الخ(ج1 ص275/276 کتاب النکاح ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: لو أقر بحرمة المصاهرة يؤاخذ به ويفرق بينهما(الی قولہ)رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج الخ(ج1 ص275/276 کتاب النکاح،الباب الثالث فی بیان المحرمات ط: ماجدیۃ)۔