بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں اپنا واقعہ ترتیب وار عرض کر رہی ہوں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری شرعی رہنمائی فرما دیں کہ میری موجودہ حیثیت کیا ہے اور کیا میں اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہوں یا نہیں؟
واقعہ
میرا پہلا نکاح ہوا، اس شادی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔
اس کے بعد میرے شوہر نے مجھے تین (3) طلاقیں دے دیں۔
کچھ عرصہ بعد میری دوسری شادی ہوئی۔ دوسرا شوہر نشہ کرتا تھا اور مجھے مارتا پیٹتا تھا، جس کی وجہ سے میں نے اس سے خلع لے لیا۔
اس کے بعد میرا دوبارہ نکاح پھر اسی پہلے شوہر سے ہوا۔ گھریلو جھگڑے بہت رہے اور غصے میں اس نے مجھے دوبارہ تین (3) طلاقیں دے دیں۔
اس کے بعد میری تیسری شادی سکھر میں ہوئی۔ اس شادی سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ بعد میں میرے تیسرے شوہر کا انتقال ہو گیا۔
سوال
اب ان تمام حالات کے بعد، جبکہ پہلے شوہر سے دو مرتبہ نکاح ہو چکا ہے اور وہ دونوں مرتبہ مجھے تین تین طلاقیں دے چکا ہے، کیا میں اب اس پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہوں؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب وہ مجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکا ہے، چاہے میرے کتنے ہی نکاح کسی اور سے ہو جائیں۔ براہِ کر
صورت مسؤلہ میں سائلہ نے دوسرے شوہر سے جو خلع حاصل کیا تھا ،اس کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی ،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم سائلہ کے دوسرے شو ہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے اگر اس خلع پر رضامندی کا اظہار کیا ہو،یا وہ خلع معتبر أسباب فسخ میں سے کسی سبب کے نتیجہ میں حاصل کیا گیا ہو ،تو شرعاً یہ خلع معتبر ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا تھا،جس کے بعد سائلہ کا پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا درست تھا،اور دوبارہ اس سے طلاق ہو جانے کے بعد اب اگر سائلہ نے سکھر میں مذکور شخص سے نکاح کر لیا ہو،اور اس شخص کا حقوق زوجیت ادا کر نے کے بعد انتقال ہوچکا ہو ،جس بنا پر اب سائلہ پھر پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہتی ہو ،تو اس سے وہ سہ بارہ نکاح کرسکتی ہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ»(سورة البقرة،رقم الاية:230)
و فی صحیح البخاری: عن عائشة رضي الله عنها:جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: (أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك)( باب: شهادة المختبي،ج: 2،ص: 933،رقم الحدیث: 2496،مط: دار ابن کثیر)
وفی الدر المختار: (ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما یصلح للمہر) (الی قولہ) (و) حکمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصریح (علی مال طلاق بائن) وثمرته فیما لو بطل البدل کما سیجيء (و) الخلع (هو من الكنايات فيعتبر فيه ما يعتبر فيها) من قرائن الطلاق،اھ(كتاب الطلاق،باب الخلع،ج: 3،ص: 234،مط: دار الفکر)
و فی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية،اھ (كتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة،ج: 1،ص: 473،مط: دار الفکر)
و فیہا ایضاً: الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين اھ(كتاب الطلاق،الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه،ج: 1،ص: 488،مط: دار الفکر)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0