السلام علیکم،
میرے دوست سے ایک گناہ ہو گیا ہے، اس سے اپنی ساس سے زنا ہو گیا ہے، بہت پہلے، اب وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے، تو ان کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ بہت شرمندہ ہے، کیا وہ اپنی باقی زندگی ساتھ گزار سکتے ہیں؟ نکاح میں تو کوئی فرق نہیں ہوگا؟ میں نے کہا ہے اللہ سے رو رو کر دعا کرو۔ اور آپ نصیحت کر دو، وہ بہت پریشان ہے اور شرمندہ ہے۔
سائل کے دوست نے اگر اپنی ساس سے زنا کا ارتکاب کر لیا ہو، تو اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے، اب ان كىلئے مىاں بىوى كى حىثىت سے ساتھ رہنا جائز نہىں، لہذا سائل کے دوست پر سابقہ فعل پر بصدق دل توبہ و استغفار اور بیوی کے لیے الفاظ متاركت مثلاً: "مىں تمہیں چھوڑتا ہوں" کہہ کر اپنی بیوی کو اپنے عقد سے جدا کرنا لازم ہے، ورنہ جتنا عرصہ ساتھ رہیں گے، مزید حرام میں مبتلا رہیں گے، جبکہ عورت اس عقد سے جدا ہونے کے بعد عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی الدر المختار: (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها اهـ ومثله ما قدمناه قريبا عن القهستاني عن النظم وغيره. وقوله: ويحل إلخ أي كما يحل ذلك بالوطء الحلال وتقييده بالحرمات الأربع مخرج لما عداها وتقدم آنفا الكلام عليه اهـ (كتاب النكاح، فصل فی المحرمات، ج3، ص:32، ط: سعید)
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: فمن زنى بامرأة حرمت عليه بنتها وأمها. ولو زنى الزوج بأم زوجته أو ببنتها، حرمت عليه زوجته على التأييد اهـ [القسم السادس: الأحوال الشخصية، الباب الأول: الزواج وآثاره، الفصل الثالث: المحرمات من النساء أو الأنكحة المحرمة، النوع الأول - المحرمات المؤبدة، 2 - حرمة المصاهرة، ج:9 ص:6630 ط: دار الفكر سورية دمشق)]
وفي الدر المختار: وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة اهـ وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها، وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها، ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر فافهم اهـ (كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج3، صـــ37، ط: سعید)