میرے بیٹے کا نام عبدللہ شاہ میر ہے ، یہ نام رکھنا کیسا ہے، وہ بیمار ہے وقت سے پہلے پیدا ہوا ہے newborn hy
واضح ہو کہ" عبداللہ" نہایت بابرکت اور مسنون نام ہے، بلکہ حدیث شریف میں یہ نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین ناموں میں شمار کیا گیا ہے۔ لہٰذا سائل کا بیٹے کے نام کےلئے لفظ"عبداللہ " کا انتخاب بلاشبہ درست ہے۔ البتہ حدیث شریف میں ایسے ناموں سے منع کیا گیا ہے جن میں تکبر یا ایسی عظمت کا مفہوم ہو جو حقیقتاً صرف اللہ تعالیٰ کے شایان ِشان ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل تسمى ملك الأملاك
"قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بد ترین نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام"ملک الاملاک"
(بادشاہوں کا بادشاہ ) رکھاہو۔"(صحیح البخاری)
جبکہ"شاہ اورمیر"دونوں فارسی زبان کے الفاظ ہیں ،شاہ اکثر بادشاہ کے لئے استعمال ہوتاہے ،اور میر بھی سردار کے معنی میں استعمال ہوتاہے تو اس لحاظ سے شاہ میر کا معنی ہوا بادشاہوں کا بادشاہ یا سرداروں کا سردار ،جس میں زیادہ مبالغہ ہے، لہٰذا ایسے القابات یانام جو الوہیت ، مطلق بادشاہت یاکبریائی کے معنی دیتے ہوں، ان سے اجتناب برتنا چاہیے، چنانچہ سائل کو اپنے بیٹے کے نام سے "شاہ میر" کا لاحقہ ختم کرکے صرف "عبداللہ" نام پر اکتفا کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔
کما فی صحیح البخاری: «عن أبي هريرة قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل تسمى ملك الأملاك)» (باب ابغض الاسماء الی اللہ،ج:5، ص:2292،رقم:5852،ناشر:دار ابن کثیر)
وفی الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري (شاه) بالفارسية الملك و (شاهان) الأملاك ومعناه ملك الملوك لكن في قاعدة العجم تقديم المضاف إليه على المضاف نحو معنى رامي الحجارة وهو بسكون النون من شاهان لا يشكرها، قال ابن بطال: إنما كان أبغض الأسماء لأنه صفة الله ولا ينبغي لمخلوق أن يسمى بذلك والأخنع الأذل الخطابي: أخنى الأسماء إن كان محفوظا فمعناه أقبح الأسماء وأفحشها من الخني وهو الفحش وأما أخنع فمعناه أوضعها لصاحبه وأذلها عند الله تعالى اھ( باب کنیۃ المشرک، ج: 22، ص: 54، رقم: 5828)
وفی مسند احمد: حدثنا هشام بن سعيد، حدثنا محمد بن مهاجر - يعني أخا عمرو بن مهاجر -، قال: حدثني عقيل بن شبيب، عن أبي وهب الجشمي، وكانت صحبة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تسموا بأسماء الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله عز وجل عبد الله وعبد الرحمن، وأصدقها حارث وهمام، وأقبحها حرب ومرة، وارتبطوا الخيل، وامسحوا بنواصيها وأعجازها - أو قال: وأكفالها - وقلدوها ولا تقلدوها الأوتار، وعليكم بكل كميت أغر محجل أو أشقر أغر محجل، أو أدهم أغر محجل (ج: 31، ص: 377، رقم: 19032، ناشر: مؤسسۃ الرسالۃ)