ہم نے اپنی بیٹی کا نام مرحاء (Mirha) رکھا تھا کیونکہ آن لائن اس کا مطلب "اللہ کا نور" بتایا گیا تھا، لیکن اب مجھے پتا چلا ہے کہ یہ مطلب درست نہیں ہے اور یہ لفظ "المرحا" کے حوالے سے آیا ہے، جیسا کہ آیت میں ہے:
"وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا"
تو کیا مرحاء (Mirha) کا مطلب اسی آیت والے "مَرَحًا" جیسا ہے؟
کیا مجھے نام تبدیل کر دینا چاہیے؟
اگر میں نام تبدیل کروں تو میرے ذہن میں مائزہ (Maiza) ہے، کیا یہ ٹھیک ہے؟
یا آپ کوئی اور نام تجویز کر سکتے ہیں؟
میری بیٹی کی پیدائش 5 جنوری 2026 کو ہوئی ہے۔
واضح ہو کہ '' مرحا'' عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے کئی معنی آتے ہیں(1) اگر یہ لفظ ''ر ح ی ''مادے سے ہو تو اس کا معنی ہے چکی کا محور(2) اوراگر یہ لفظ ''م ر ح ''مادے سے ہو تو اس کا معنی ہیں تکبر ، اترانا، لہذا پہلےمعانی کے اعتبار سے اگر چہ یہ نام رکھنے کی گنجائش ہے لیکن پھر بھی اگر صحابیات اور سلف صالحین میں سے کسی کا نام یا کوئی دوسرا بامعنی نام رکھا جائے تو بہتر ہوگا ۔
نیز ''مائزہ '' م ی ز ''مادے سے ہے اور اسکا معنی ہے الگ کرنا ،چھانٹنا،ممتاز کرنا ، فوقیت دینا، ان معانی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا بھی درست ہے۔
کما فی معجم الوسیط:(المرحی) مدار الرحی اھ(ص:348، مط: دارالنشر اللغۃ العربیۃ)
وفیہ ایضاً (مرحی) کلمۃ تعجب یقال للرامی او الخطیب او نحوھا اذا اصاب اھ(ص:895، مط: دارالنشر اللغۃ العربیۃ)
وفی المنجد فی اللغۃ: (مرحی) کلمۃ تعجب یقال للرامی اذا اصاب اھ(مط:المکتبۃ الشرقیۃ)
وفی القاموس الوحید :''مرحی'' خوب ،بہت خوب ، واہ واہ،کلمہ تعجب اھ(ص:1221،مط:ادارۃ السلامیات لاھور)
وفی المنجد:ماز یمیز میزاً الشئ :افرزہ عن غیرہ اھ(مکتبۃ الشرقیۃ)
وفی القاموس الوحید:مازالشئ میزاً الگ کرنا ،چھانٹنا،ممتاز کرنا اھ (ص:1263، مط:ادارۃ السلامیات لاھور)