السلام علیکم !
بخدمتِ جناب مفتی صاحب! ایک صاحب کی اپنی سابقہ اہلیہ سے پانچ سال پہلے طلاق واقع ہو چکی ہے اور تمام قانونی کاروائی بھی ہو چکی ہے باقاعدہ فتوے کی روشنی میں ۔ان کے پانچ بچےہیں ۔سب سے بڑا 21 سال کا ہے اور سب سے چھوٹا 13 سال کیاہے،اور علیحدگی کے بعد سے بچے ان صاحب کے ساتھ ہی رہتے ہیں،دو سال پہلے کسی نے مشورہ دیا کہ: آپ اپنی سابقہ اہلیہ کو گھر لے آئیں، آپ ایک چھت کے نیچے رہ سکتے ہیں الگ الگ کمروں میں، لیکن کچھ عرصے کہ بعد دونوں کے درمیان بات چیت بھی شروع ہو گئی ہے اور شاپنگ بھی ساتھ کرنےلگے ہیں،اور بچوں کے ساتھ کھانا کھانے باہر بھی چلے جاتے ہیں اور کبھی ضرورت پڑ نے پر وہ ناشتہ یا کھانا بھی دے دیتی ہیں جب کبھی بچے موجود نہ ہوں،ان خاتون کا بھائی اور والدہ حیات ہیں اور صاحب ثروت ہیں، اور طلاق کے بعد تین سال تک وہ ان ہی ساتھ رہتی تھی ۔براہ کرم شریعت کی روشنی میں اس مسلہ کا حل بتائیں۔
واضح ہوکہ تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن جاتےہیں ،اور اجنبی مرد و عورت کےمابین میاں بیوی کی طرح بےتکلفی اختیارکرنا نا جائز اور حرام ہے ،جس سے اجتناب لازم ہے،لہذاصورتِ مسئولہ کابیان اگرحقیقت پرمبنی ہواوراس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیاگیاہوتوان دونوں کا حلالہ شرعیہ کے بغیراس طرح باہم میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنااوراکٹھے کھاناکھانے کے لیے باہرجانااورشاپنگ وغیرہ کرنا شرعاًجائزنہیں ہے،جس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گارہورہے ہیں اور ان دونوں کے اس طرح مزیدساتھ رہنے میں چونکہ فتنے میں مبتلاء ہونے کاقوی خدشہ موجودہے،اس لیے دونوں کا ایک دوسرے سے فی الفورعلیحدگی اختیارکرتے ہوئے الگ الگ مکان میں رہائش اختیار کرنا لازم ہے۔
حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کمافی الدر المختار: قال: ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتھى، وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط الخ (کتاب الطلاق،باب العدۃ،فصل فی الحداد،ج3،ص538،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی الدر المختار: وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام الخ (کتاب الحضر والاباحة، فصل في النظر والمس،ج6،ص368،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية الخ(كتاب الطلاق،الباب السادس: فی الرجعة ج 1، ص 473، ط: مکتبة ماجدیة)-