میرے پاس ایک لڑکی کا رشتہ آیا ہے جو بہت زیادہ تقویٰ والی ہے، نقاب کرتی ہے، موسیقی سے پرہیز کرتی ہے وغیرہ، لیکن اس کے والد بینک میں کام کرتے ہیں، تو کیا اس سے نکاح کرنا حلال ہے؟ میں نے سنا ہے کہ اگر میں انہیں بتا دوں کہ: میں ان کے گھر جو کچھ بھی کھاؤں گا اس کی طرف سے صدقہ کر دیا کروں گا، تو اس طرح کم از کم میرے لیے وہ کھانا حلال ہو جائے گا؟ کیا مجھے یہ رشتہ قبول کر لینا چاہیے ،جبکہ لڑکی اسلامی لحاظ سے تمام معیار پر پوری اترتی ہے؟
واضح ہو کہ سودی بینک میں اس طرح کی ملازمت اختیار کرنا جس کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے ہوشرعاًناجائزہے، تاہم اس ملازمت کی وجہ سے ایسےشخص کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا ممنوع یا ناجائز نہیں ، لہذاصورتِ مسئولہ میں سائل کا بینک ملازم کی بیٹی سے نکاح کرناشرعاً جائز ہے،لیکن اگر لڑکی کے والد کی آمدنی کا اکثر حصہ سودی بینک کی ملازمت اورتنخواہ سے ہی حاصل ہوتا ہو، تو ان کے ہاں سے کھانے پینے اور ہدیہ وتحائف لینے سے اجتناب کرنا ہوگا۔تاہم اگر ان کی آمدنی کا اکثر حصہ سودی بینک کی ملازمت کا نہ ہو، بلکہ اس کے علاوہ کوئی اور جائز ذریعہ آمدن بھی ہو، تو پھر ان کے ہاں کھانے، پینے اور ان سے تحائف لینے کی گنجائش ہوگی۔