اسلام میں عورتوں کے لیے جسم کے غیر ضروری بال صاف کرنا کس حد تک جائز ہے؟کیا عورتیں بلیڈ یا ریزر کے ذریعے اپنے بال صاف کر سکتی ہیں؟
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ نے طہارت، نظافت اور فطری پاکیزگی کو بہت اہمیت دی ہے، اسی بنا پر عورتوں کے لیے جسم کے غیرضروری بال صاف کرنا ناصرف جائز ،بلکہ بعض مقامات پر اس کی تاکید بھی آئی ہے۔ چنانچہ بغل اور زیرِ ناف کے بال صاف کرنا امورِ فطرت میں داخل ہے، اس لیے ان کی صفائی کرنا مستحب ہے اور زیادہ مدت تک (چالیس دن سےزیادہ )چھوڑ دینا خلافِ سنت اورمکروہ قراردیاگیا ہے۔
اسی طرح بازوؤں، ٹانگوں اور جسم کے دیگر حصوں کے وہ بال جو عرفاً ناپسندیدہ ہوں یا صفائی و زینت کے خلاف ہوں، انہیں صاف کرنا بھی جائز ہے۔ اس مقصد کے لیے بلیڈ، ریزر، کریم یا کوئی بھی ایسا طریقہ جو محفوظ ہو اور جسم کو نقصان نہ پہنچائے، اختیار کیاجاسکتاہے ۔
البتہ چہرے کے بالوں کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر غیر معمولی بال پیدا ہو جائیں، جیسے مونچھ یا داڑھی کی طرح نمایاں بال، توان کو دور کرنا جائز ہے؛ لیکن ابروؤں کو باریک کرنا یا ان کے بال نوچنا (نمص) شریعت میں ممنوع قرار دیا گیا ہے، الا یہ کہ غیرمعمولی بڑھوتری ہو جو شدید بدنمائی یا تکلیف کا باعث بن رہی ہو، تو بعض اہلِ علم نے اس کی گنجائش ذکر کی ہے۔
کمافی الدر المختار: (و) يستحب(حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة)والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين مجتبى،الخ
وفی الرد: تحت (قوله: ويستحب حلق عانته) قال في الهندية ويبتدئ من تحت السرة ولو عالج بالنورة يجوز كذا في الغرائب وفي الأشباه والسنة في عانة المرأة النتف(قوله وتنظيف بدنه)بنحو إزالة الشعر من إبطيه ويجوز فيه الحلق والنتف أولى، وفي المجتبى عن بعضهم وكلاهما حسن،الخ(کتاب الحظر والإباحۃ،فصل فی البیع،ج6، ص406-407،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی الشامیۃ: وحلق العانة أو نتفها أو استعمال النورة وكذا نتف الإبط، والعانة: الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة ومثلها شعر الدبر بل هو أولى بالإزالة لئلا يتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر، (کتاب الحج،فصل فی الإحرام وصفة المفرد،ج2،ص481،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی البحر الرائق: والاستحداد حلق العانة سمي استحدادا لاستعمال الحديدة، وهي الموسى، وهو سنة والمراد بالعانة الشعر فوق ذكر الرجل وحواليه إلى السرة،الخ(کتاب الطھارۃ، أحكام الغسل،فرائض الغسل،ج1،ص50،ط:دار الکتاب الإسلامی)-