نام رکھنے کا حکم

حرم نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
91054
| تاریخ :
2026-01-17
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

حرم نام رکھنا کیساہے

میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میری بیٹی ہوئی تو اس کا نام میں حرم رکھوں گی، پرمجھے اب پتا چلا ہے کہ میں یہ نام نہیں رکھ سکتی۔ پلیز مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ اس نام کا ایک مطلب نیک عورت ہے اور ایک حرام نکلتا ہے، اس وجہ سے بتا دیں میں کیا کروں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حرم کا معنی مقدس اور لائق احترام وغیرہ کے آتے ہیں اس لئے کسی بچی کا یہ نام رکھناشرعاً جائز ہے، اور اگر کوئی دوسرا نام رکھنامقصود ہو توعائشہ،فاطمہ،کلثوم،حفصہ،زینب،جویریہ،سلمیٰ،ماریہ،حمیرہ،امیمہ،میمونہ،اور بریرہ میں سے کوئی نام رکھ سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافي المعجم الوسيط:(الْحرم) ‌حرم مَكَّة والحرمان مَكَّة وَالْمَدينَة وَحرم الرجل مَا يُقَاتل عَنهُ ويحميه (ج) أحرام(باب الجيم،ص:١٦٩،مط:المكتبة الشروق الدولية)
وفي مصباح اللغة: الحرم . - ہر وہ چیز جس کی حفاظت کی جائے اور جس کی طرف سے مدافعت کی جائے۔مقدس - ج احرام الحرم الاقصى : بيت المقدس(باب الجيم،ص:١٥٩،مط:مکتبہ القدوسیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91054کی تصدیق کریں
0     128
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات