سوال:
ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ میرے والد دیہه ڪاٺوڙ کے اصل اور قدیمی رہائشی ہیں، جہاں ہمارا خاندان گزشتہ 500 سالوں سے آبادہے۔
سال 1969یں میرے والد کو ان کے بزرگ نے اپنی رضا مندی سے بطور انعام تقریباً 19 ایکڑ 23 گھنٹے زمین دی، جو کہ سروے نمبر 156، دیہه ڪاٺوڙ، تعلقہ گونی، ضلع حیدرآباد میں واقع ہے۔
یہ زمین سرکاری ریکارڈ میں داخل نہ ہو سکی، لیکن یہ زمین باقاعدہ طور پر گواہوں کی موجودگی میں دی گئی،
اس وقت کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ تھا، مگر 1983 میں چند ساتھیوں (جو پنجاب سے ہجرت کر کے آئے) نے اس زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا۔
یہ زمین صرف خدمت کے بدلے میں نہیں، بلکہ رضا و رغبت اور حق ملکیت کے طور پر دی گئی تھی، جس کا اصل حقدار شرعی طور پر میرے والد اور اب ہم ہیں۔
براہِ کرم، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
1. کیا اسلامی شریعت کے مطابق یہ زمین ہماری ملکیت ہے؟
2. کیا گواہوں کی موجودگی میں دی گئی زمین کا حق شریعت میں ثابت کیا جا سکتا ہے؟
3. کیا محمد عارف گجر کا قبضہ شریعت کے مطابق حرام اور ناجائز ہے؟
4. ہمیں شرعی حق کے حصول کے لیے کون سے اقدامات کرنے چاہییں؟
سائل کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے والد مرحوم کو ان کے مخدوم بزرگ نے مذکور زمیں الگ اور متعین کرکے ان کو مالکانہ تصرف(کاشت وغیرہ امور )کے ساتھ حوالہ کردی ہوجس پر باقاعدہ شرعی گواہان بھی موجود ہوں (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو اس سے ہبہ مکمل ہوکر سائل کا والد مرحوم مذکور زمین کا مالک بن گیا تھا کیونکہ شرعاً کسی چیز کی ملکیت کے لئے اس کا سرکاری ریکارڈ میں درج رجسٹر ہونا ضروری نہیں ، لہذا مذکور قبضہ کنندہ پر لازم ہے کہ وہ اپنا قبضہ اٹھا کر مذکور زمین کو سائل کے خاندان کے حوالے کرکے مواخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے ورنہ سائل کے خاندان والوں کے پاس جب موقعےپر گواہ بھی حیات اور موجود ہیں تو فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کرکے اپنا حق وصول اور محفوظ کرنے میں حق بجانب ہوں گے اور جلد از جلد قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنا بہتر ہوگا۔
کما فی مجمع الفقہ الاسلامیہ: وقبض كل شيء بحسبه. . . وقال أبو حنيفة: التخلية في ذلك قبض، وقد روى أبو الخطاب عن أحمد رواية أخرى، أن القبض في كل شيء التخلية مع التمييز لأنه خلى بينه وبين المبيع من غير حائل فكان قبضًا له كالعقار. . . إلى أن قال: ولأن القبض مطلق في الشرع فيجب الرجوع فيه إلى العرف كالإحراز والتفرق. (ج:6،ص:532)
وفی الدر المختار: (و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع حتى لو حلف أن يهب عبده لفلان فوهب ولم يقبل بر وبعكسه حنث بخلاف البيع(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالإذن، وفي المحيط لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لتمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع اختيار وفي الدرر والمختار صحته بالتخلية في صحيح الهبة لا فاسدها وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض (ولو نهاه) عن القبض (لم يصح) قبضه (مطلقا) ولو في المجلس؛ لأن الصريح أقوى من الدلالة(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔(ج:5،ص:590،مط:ایچ ایم سعید)
وفی البحر الرائق: قوله وقبض بلا إذن في المجلس وبعده به) يعني وبعد المجلس لا بد من الإذن صريحا فأفاد أنه لا بد من القبض فيها لثبوت الملك لا للصحة والتمكن من القبض كالقبض(ج:7،ص:285)