نام رکھنے کا حکم

سیلان نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
90812
| تاریخ :
2026-01-12
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

سیلان نام رکھنا کیساہے

سیلان نام رکھنا کیسا ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بچے کیلئے ایسے نام کا انتخاب کرنا چاہئے جو عبدیت اور بندگی کے معنی پر مشتمل ہو یا انبیاء و صلحاء میں سے کسی کا نام ہو یا کم از کم صحیح معنی و مفہوم پر مشتمل ہو،تو اسکو تجویز کر لیا جائے،جبکہ سوال میں مذکور نام "سِیلان"(لفظ سین کے زیر کے ساتھ ) کا مطلب " ایک قیمتی پتھر" ۔"تلوار کا وہ حصہ جو میان میں داخل ہو" ،جبکہ"سیلان "(سین کے زبر کے ساتھ) کا معنیٰ بہاؤ،جاری ہونا ،معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه اھ (باب تسمیة الأولاد ،ج:۲،ص: ٩٣٩ )
و فی الھندیة: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكر ه رسول الله صلى الله عليه الله وسلم ولا استعمله المسلمون يكلموا فيه والأولى ان لا تفعل كذا فى المحيط –(ب: تسمیة الأولاد ،ج : ۵ ،ص :٣٦٢ ، م : ماجدیہ)
و فی تکملہ معاجم العربیہ :وحجر سيلان: عقيق وهو حجر كريم أحمر (بوشر). سيلان: اسم حجر كريم (م المحيط). وحجر سيلان: عقيق. سَيَلان: غزارة، فيض، ففي المقري (١: ٥١٢): سيلان ذهنه أي فيض ذهنه. سَيَلان: دبس يستخرج من التمر، ويصنعونه بالبصرة (ابن بطوطة ٢: ٩، ٢١٩).(المادة : س ی ل ، ج : ۶،ص : ۲۱۱،ط : وزارة الثقافة والإعلام، الجمهورية العراقية)
و فی المنجد اردو عربی : السِیلان : ایک قمتی پتھر ۔تلوار کا وہ حصہ جو میان میں داخل ہو ۔ ج سَیَلین (المادہ:س ی ل ،ص:۴۰۶، ،ط : مکتبة العلم کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90812کی تصدیق کریں
0     166
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات