نام رکھنے کا حکم

سعدان نام رکھنا کیسا ہے

فتوی نمبر :
90742
| تاریخ :
2026-01-09
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

سعدان نام رکھنا کیسا ہے

اسلام علیکم!

پچھلے ماہ اللّٰہ پاک نے مجھے بیٹے کی دولت سے نوازا ہے۔میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد سعدان اسد رکھا اور اندراج کروایا ہے۔ سعدان کے ایک معنی خوش رہنے والا، خوش بخت اور ایک معنی صحرا کا ایک پودا کے آرہے تھے جسے عرب کے لوگ کسی شخص یا چیز کی انفرادیت کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اب مجھے شام کے ایک دوست نے بتایا ہے کہ عربی میں بندر کے لئے بھی سعدان کا لفط استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے معلوم ہو اکہ یہ نام اسلامی تاریخی اعتبار سے احادیث کے راوی سعدان بن نصر اور سعدان بن یحیی کے طور پر درج ہیں۔ برائے مہربانی سعدان نام رکھنے کے حوالےسے درست رہنمائی فرمائیں اور اس کے معنی کی تصدیق بھی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ لفظ "سعدان (سین کے زبر اور عین کے سکون کے ساتھ) کےمعنی خاردار پودے اور کجھور کے درخت کے کانٹے کے آتے ہیں لہذا کسی بچے کا یہ نام رکھنا شرعاً جائز اور درست ہےاس لئے تشویش میں پڑنے کی ضرورت نہیں، تاھم اگر اس کے بجائے انبیاء کرام ؑ، صحابہ کرام اور بزرگان دین کے ناموں میں سےکوئی نام منتخب کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مصباح اللغات:سعدان ۔ایک خاردار پودا جو اونٹوں کیلئے بہتر ہو (ص:377)
وفی قاموس الوحید :السعدان کھجور کے درخت کے کانٹے۔زہرہ اور مشتری ستارے (ص:627)
وفی تکملۃ المعاجم العربیۃ: ‌سعدان وجمعه سعادين: قرد (بوشر، همبرت ص63) وسبوس، ساجو، نوع من قرود أمريكية قصيرة طويلة الذيل (بوشر). سُعُود: لعل هذا هو صواب الكلمة في معجم بوشر الذي يذكر سعو بمعنى درجة كبيرة من الإتقان. (ج: 6، ص: 78)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90742کی تصدیق کریں
0     148
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات