میں نے پہلے اپنے بچے کا نام محمد شہرام رکھا، پھر ہم اُسے محمد شریم کہہ کر پکارنے لگے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دونوں نام درست نہیں ہیں؟ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کون سا نام رکھوں اور کوئی اچھا سا نام بھی تجویز کر دیں۔
شہرام فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی بادشاہ کے آتے ہیں، اس نام کا رکھنا شرعاً جائز ہے۔ چنانچہ اس نام کے رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔جہاں تک شریم کا تعلق ہے ،تو یہ لفظ شرم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی پھاڑنا،اور پھٹنا وغیرہ کے آتے ہیں ،لہٰذا اس معنی کے اعتبار کسی شخصیت کا بدنام رکھنا تو درست نہیں ،لہٰذا سائلہ کو چاہیئے کہ انبیاءکرام علیھم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کرے۔
کما فی سنن أبي داود: عن أبي الدرداءرضی اللہ عنہ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم.( أخرج الإمام أبوداود السجستانی في ’’سننه‘‘ (باب ماجاء فی تغییر الاسماء ،ج:7،ص:303،رقم الحدیث : 4948)
وفیه ایضا : عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أحب الأسماء إلى الله تعالى: عبد الله وعبد الرحمن" (باب ماجاء فی تغییر الاسماء ،ج: 7،ص:304 ،رقم الحدیث :4949)
وفی سنن الترمذی : عن ابن عمر «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم غير اسم عاصية وقال: أنت جميلة.» (باب ماجاء فی تغییر الاسماء :ج: 4، ص: 523،رقم الحدیث :2832،دار الغرب الإسلامي - بيروت)