کیا ہارون کلام نام اسلام کے حساب سے صحیح ہے؟مجھے اس کا دارالافتاء سرٹیفکیٹ چاہیے۔
”ہارون “ایک جلیل القدر نبی کا نام ہے، جوکہ حضرت موسی ٰکلیم اللہ(علیہ السلام) کے بڑےبھائی اورنبی تھے چنانچہ حضرت ہارون (علیہ السلام)کے نام پربچے کانام رکھنا باعثِ برکت اور پسندیدہ ہے، اور ”کلام “ کا معنی ہے بات، گفتگو، گفتار، اس میں کوئی ناپسندیدہ یا خلافِ شرع مفہوم نہیں۔ لہذابچے کانام "ہارون کلام" رکھنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
کما فی تاج العروس:(وهارون: اسم) النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن عمران بن قاهث أخي موسى، (36/ 281)-