ایک دوست گارڈ کی ڈیوٹی پر تعینات ہے، وہ رات کے وقت ڈیوٹی کے دوران سو جاتا ہے، اس کے سپروائزر نے اسے سونے کی اجازت دے رکھی ہے، لیکن کمپنی کے مالک (سیٹھ) اور کمانڈنٹ آفیسر کو اس بات کا علم نہیں ہے،ایسی صورت میں کیا اس کی یہ ڈیوٹی شرعاً جائز (حلال) ہے یا ناجائز (حرام)؟اور جو تنخواہ اسے ملتی ہے، وہ حلال ہے یا حرام؟براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ ملازم پر دورانِ ملازمت لازم ہے کہ وہ اپنے معاہدۂ ملازمت اور طے شدہ ذمہ داریوں کو دیانتداری کے ساتھ ادا کرے، اگر کسی شخص کو رات کے وقت بطورِ گارڈ مقرر کیا گیا ہو، تو اس کا اصل فریضہ بیدار رہ کر نگرانی کرنا ہے، کیونکہ اسی مقصد کے لیے اسے اجرت دی جاتی ہے۔
لہذا اگر ڈیوٹی کے دوران سونا کمپنی کے قواعد کے خلاف ہو، اور مالک یا متعلقہ حکام کی اجازت بھی حاصل نہیں، تو محض سپروائزر کی اجازت کافی نہیں ہوگی، ایسی صورت میں بلا ضرورت سونا ملازمت میں کوتاہی اور تفویص شدہ ذمہ داری کی خلاف ورزی شمار ہوگا، جس سے بچنا واجب ہے۔
البتہ تنخواہ کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر ملازم مجموعی طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہو، مگر اس میں کوتاہی یا غفلت پائی جاتی ہو تو اس غفلت کی وجہ سے تنخواہ کو حرام نہیں کہا جائے گا، بہتر یہ ہے کہ متعلقہ اتھارٹی سے دورانِ ڈیوٹی رات میں آرام کرنے کی واضح اجازت حاصل کی جائے، یا ڈیوٹی اس انداز سے دی جائے کہ ذمہ داری متاثر نہ ہو۔
کما فی الشامیۃ: "وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل،(قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."(کتاب الإجارۃ،6/ 70، ط:سعید)۔
و فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: "قال - رحمه الله -: (والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) يعني الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل". (باب الإجارة، ج:8، ص:51، ط:مكتبه رشيديه)۔