مکروہات

گارڈ کا ملازمت کے دوران رات کو سونا

فتوی نمبر :
90430
| تاریخ :
2025-12-31
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مکروہات

گارڈ کا ملازمت کے دوران رات کو سونا

ایک دوست گارڈ کی ڈیوٹی پر تعینات ہے، وہ رات کے وقت ڈیوٹی کے دوران سو جاتا ہے، اس کے سپروائزر نے اسے سونے کی اجازت دے رکھی ہے، لیکن کمپنی کے مالک (سیٹھ) اور کمانڈنٹ آفیسر کو اس بات کا علم نہیں ہے،ایسی صورت میں کیا اس کی یہ ڈیوٹی شرعاً جائز (حلال) ہے یا ناجائز (حرام)؟اور جو تنخواہ اسے ملتی ہے، وہ حلال ہے یا حرام؟براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ملازم پر دورانِ ملازمت لازم ہے کہ وہ اپنے معاہدۂ ملازمت اور طے شدہ ذمہ داریوں کو دیانتداری کے ساتھ ادا کرے، اگر کسی شخص کو رات کے وقت بطورِ گارڈ مقرر کیا گیا ہو، تو اس کا اصل فریضہ بیدار رہ کر نگرانی کرنا ہے، کیونکہ اسی مقصد کے لیے اسے اجرت دی جاتی ہے۔
لہذا اگر ڈیوٹی کے دوران سونا کمپنی کے قواعد کے خلاف ہو، اور مالک یا متعلقہ حکام کی اجازت بھی حاصل نہیں، تو محض سپروائزر کی اجازت کافی نہیں ہوگی، ایسی صورت میں بلا ضرورت سونا ملازمت میں کوتاہی اور تفویص شدہ ذمہ داری کی خلاف ورزی شمار ہوگا، جس سے بچنا واجب ہے۔
البتہ تنخواہ کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر ملازم مجموعی طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہو، مگر اس میں کوتاہی یا غفلت پائی جاتی ہو تو اس غفلت کی وجہ سے تنخواہ کو حرام نہیں کہا جائے گا، بہتر یہ ہے کہ متعلقہ اتھارٹی سے دورانِ ڈیوٹی رات میں آرام کرنے کی واضح اجازت حاصل کی جائے، یا ڈیوٹی اس انداز سے دی جائے کہ ذمہ داری متاثر نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ: "وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل،(قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."(کتاب الإجارۃ،6/ 70، ط:سعید)۔
و فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: "قال - رحمه الله -: (والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) يعني الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل". (باب الإجارة، ج:8، ص:51، ط:مكتبه رشيديه)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90430کی تصدیق کریں
0     138
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا رات کو ںاخن کاٹے جاسکتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کھڑے ہوکر وضو اور پیشاب کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • مرد کے لئے اپنے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • اجرت پرھوم ورک اوراسائنمنٹ تیارکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 2
  • سینے سے بال صاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • کیا ذی الحجہ کے دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنا حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • مرد کا بھنویں اکھاڑنے اور اس پر پکا کلر کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کم عمربچوں سے اشعارپڑھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • آن لائن فوڈ ایپ کے واؤچر کا غلط استعمال

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا-زیر ناف بال کاٹنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • کافر کا جوٹھا استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • بینک ملازم کے لڑکے کو بیٹی کا رشتہ دینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مونچھ مونڈھنا-زیرِ ناف صفائی کے لۓ کریم - پاؤڈر کا استعمال

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • چیس گیم کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پیچ شدہ موبائل خریدنے اور خود موبائل پیچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء مخصوصہ کو چومنے اورچاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے ہجرت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • پینے کیلئے رکھے ہوئے پانی سے ہاتھ دھونا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مشغلہ اور کھیل کے طور پر شکار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میت کے گھر میں تین دن تک کھانا کھانا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • عورت کا باپردہ ہو کر اپنی آواز میں, یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیو اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • لوگوں کے سامنے اپنی بزرگی بیان کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مرحوم والد صاحب کی تصویریں شیئر کرتے رہنا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پب جی گیم کھیلنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
Related Topics متعلقه موضوعات