کیا بیٹی کا نام بریرہ رکھنا جائز ہے؟ اس بارے میں علمائے دیوبند کی کیا رائے ہے؟براہِ کرم اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔
لفظ بَرِیْرَہْ (با کے زبر، پہلی را کے زیر اور دوسری را کے زبر کے ساتھ)حضورﷺ کے گھر کی خادمہ صحابیہ کا نام ہے، اور اس کے معنی "نیک عورت" ہے، لہذا لڑکی کا نام بریرہ رکھنا درست اور باعث برکت ہے۔
کما فی اسد الغابة: بريرة مولاة عائشة: ب د ع: بريرة مولاة عائشة بنت أبي بكر الصديق رضي الله عنهم وكانت مولاة لبعض بني هلال، وقيل: كانت مولاة لأبي أحمد بن جحش، وقيل: كانت مولاة أناس من الأنصار، فكاتبوها ثم باعوها من عائشة، فأعتقتها. اسد الغابة: (37/7، ط: دار الكتب العلمية)-
و فی القاموس الوحید: بَرَّ۔۔۔بِراً :نیک ہونا۔ (ص: 156، ط: ادارہ اسلامیات)۔