محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض ہے کہ ایک صاحب (جو کہ لاولد ہیں، فی الحال حیات اور مکمل تندرست ہیں) نے اپنے سگے بڑے بھائی کے بیٹے (مستفتی) کو بچپن سے پال پوس کر بڑا کیا ہے۔ واہب کے بڑے بھائی دیگر بھائیوں کے مقابلے میں کافی غریب اور نادار تھے، اسی بنا پر اس نے اپنے اس بھتیجے کو اپنا بیٹا بنا کر رکھا اور اس کی پرورش کی۔انہوں نے اور ان کی اہلیہ دونوں نے تقریباً ۳-۴ سال قبل اپنی زندگی اور تندرستی میں، اپنی خوشی و رضا سے اپنی جائیداد کا اکثر حصہ (تقریباً ۸۰ سے ۹۰ فیصد) اسی بھتیجے کو 'ہبہ' (Gift) کر دیا اور مکمل قبضہ و تصرف بھی دے دیا ہے۔ اس ہبہ کے تمام قانونی مراحل اور سرکاری کاغذات میں نام کی تبدیلی (Mutation) بھی مکمل ہو چکی ہے اور واہب نے اس جائیداد سے اپنا تصرف ختم کر دیا ہے۔ بقیہ ۱۰ سے ۲۰ فیصد جائیداد انہوں نے اپنی اور اپنی اہلیہ کی ضروریات کے لیے رکھی ہے۔ اب واہب کے دیگر بھائی اس پر اعتراض کر رہے ہیں۔ ہمارا یہ عمل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس واقعے کو سامنے رکھ کر ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب انہوں نے اپنا پورا مال صدقہ کر دیا اور حضور ﷺ کے دریافت کرنے پر کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ تو انہوں نے عرض کیا تھا کہ ”اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں“ ۔ ہمارا یہ سمجھنا ہے کہ جب تندرستی میں پورا مال دینا ثابت ہے، تو ۸۰-۹۰ فیصد دینا بھی جائز ہونا چاہئیے۔ نیز یہ ہبہ کسی وارث کو محروم کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ صلہ رحمی اور محبت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں: ۱۔ کیا مذکورہ واقعے کی روشنی میں ایک شخص اپنی زندگی اور تندرستی میں اپنی جائیداد کا بڑا حصہ کسی کو ہبہ کر سکتا ہے؟ ۲۔ کیا ایک تہائی (1/3) کی پابندی صرف 'وصیت' (مرض الموت) کے لیے ہے؟ کیا زندگی میں کیے گئے ”ہبہ“ پر اس کا کوئی اطلاق ہوتا ہے؟ ۳۔ جبکہ واہب اور ان کی اہلیہ دونوں حیات ہیں، اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور ۳-۴ سال قبل قبضہ بھی دے چکے ہیں، تو کیا اب دوسرے بھائیوں کے اعتراض کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی ورثاء میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں واہب صحت والی زندگی میں اپنی تمام جائیدادکا تنہا مالک تھا اس پر نہ تو اس کی تقسیم لازم تھی اور نہ ہی زندگی میں تقسیم کرتے وقت اس پر وراثت یا وصیت والے احکام لاگو ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب انہوں نے اپنی جائیداد میں سے 10یا 20 فیصد اپنے لئے اوراپنی بیوی کیلئے رکھ کر بقیہ 80 یا 90 فیصد جائیداد اپنے بھائی کے بیٹے کے نام کر کے باقاعدہ اس کو مالکانہ حقوق کے ساتھ حوالہ کردیا تو شرعاً یہ ہبہ تام ہوکر مذکور جائیداد اس کی ملکیت سے خارج ہوکر اس بھتیجے کی ملکیت بن چکی ہے، اب اگر اس ہبہ سے مقصود دیگر ورثاء کو محروم کرنا نہ ہو تو اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگا، لیکن اس سے اگر دیگر ورثاء کو کوئی نقصان پہنچتاہو، اور شخص مذکور کے پاس اپنی ضروت کے علاوہ کچھ مال و جائیداد باقی ہو تو انہیں بھی دیدے ،تاکہ ان کی بھی دلجوئی ہوسکے مگر اس بنیاد پر بھائیو ں کاحصہ داری کا دعوی کرنا یا اس پر ناراض ہونادرست طرز عمل نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی المشکاۃ: و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»'۔اھ ((1/261باب العطایا، ط: قدیمی)۔
وفی شرح المجلۃ: کل مالک یتصرف فی ملکہ کیف شاء لکن اذا تعلق حق الغیر بہ یمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الاستقلال الخ (الباب الثالث الفصل الأول، رقم المادۃ: 1192، ج: 4، ص: 132، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ)۔