ہدیہ

زندگی میں تقسیم جائیداد تقسیم کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
90144
| تاریخ :
2025-12-19
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

زندگی میں تقسیم جائیداد تقسیم کرنے کا حکم

السلام علیکم ،
بعد از سلام عرض ہے کہ والد اپنے کاروبار (میڈیکل لیب) میں سے اپنے ایک فرزند کو حصہ دینا چاہتا ہے۔ شرعی اور فقہی احکام کے مطابق راہنمائی درکار ہے۔
1. کیا کاروبار کی آمدن کا اوسط/ مارکیٹ ویلیو اور طبی آلات (میڈیکل مشینری) و جملہ سامان کی قیمت کا تعین کیا جائے ۔
2- یا پھر محض طبی آلات (میڈیکل مشینری) و دیگر سامان کی جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر قیمت متعین کر کے تقسیم کا عمل وضع کیا جاۓ۔
نوٹ۔ کاروبار کراۓکی جگہ پر ہے۔
شرعی و فقہی احکام کے مطابق راہنمائی درکار ہے ۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائزتصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کا کہلائیگا۔ جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہےوہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں ، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، کہ گناہ کی بات ہے،لہٰذا سائل کو بھی مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنی تمام اولاد میں عدل و انصاف سے کام لینا چاہیئے،جبکہ اس تقسیم میں مارکیٹ ویلیو کا اعتبار کرتے ہوئے تمام سازوسامان کو شامل کرلیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیۃ: وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: ‌موت ‌مورث ‌حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه وموانعه سيأتي وأصوله: ثلاثة الخ (کتاب الفرائض،ج:6،ص:758،م:کراچی۔)
وفیھا ایضاً: (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا ‌بين ‌أولادكم ‌في ‌العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة۔۔۔۔ وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى۔(مطلب فی مھم فی قول الواقف الخ ، ج :4، ص:444،م:کراچی۔)
وفی الدر: (‌وشرائط ‌صحتها ‌في ‌الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق۔(کتاب الھبہ،ج:5،ص:687،م:کراچی۔)
وفی البحر الرائق: ‌وأما ‌بيان ‌الوقت ‌الذي ‌يجري ‌فيه ‌الإرث فنقول هذا فصل اختلف المشايخ فيه قال مشايخ العراق الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث(یبدا من ترکۃ المیت الخ،ج:8،ص:488 ، م: رشیدیۃ۔)
وفی السراجیۃ:قال علماءناؒ تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتّبۃ،الاوّل:یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیرتبذیر ولا تقتیر،ثم تقضٰی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ،ثم تنفّذ وصایاہ من ثلث مابقی بعد الدین،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ و اجماع الامّۃ۔(ص:10،م:البشرٰی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90144کی تصدیق کریں
0     132
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات