میں اپنے دوست کو نصیحت کر رہا تھا کہ یہ یا وہ چیز نہ چرائے، حالانکہ میں جانتا تھا کہ وہ چور نہیں ہے۔ جب مجھے محسوس ہوا کہ میں نے کچھ غلط کیا ہے تو میں نے کہا کہ میں صرف مذاق کر رہا تھا، لیکن میری نیت واقعی مذاق نہیں تھی؛ یہ نصف سنجیدہ اور نصف صرف مذاق تھی۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں نے واقعی کچھ غلط کیا یا یہ شیطان کا کوئی وسوسہ تھا۔ شکریہ۔
صورت مسؤلہ میں سائل کا اپنے دوست کو بغیر دلیل شرعی کے اس طرح کہنا مذاق میں ہو یا سنجیدگی میں ،دونوں صورتوں میں بدگمانی اور الزام تراشی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں تھا ، لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنی حرکت پر توبہ استغفار اور اپنے دوست سے معافی بھی طلب کرے۔
کما فی التنزیل العزیز : وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (36)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ". [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]
وفی التفسير الكبير تفسير القرآن العظيم، للإمام الطبراني : وقوله تعالى {(ولا تجسسوا)} التجسس: البحث عن عيب أخيه الذي ستره الله عليه. ومعنى الآية: خذوا ما ظهر ودعوا ما ستر الله ولا تتبعوا عورات الناس، قال صلى الله عليه وسلم: [لا تجسسوا؛ ولا تحاسدوا؛ ولا تباغضوا؛ ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا].
وروي: أن رجلا جاء إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال له: (إن فلانا يواظب على شرب الخمر، فقال له: إذا علمته يشربها فأعلمني. فأعلمه فذهب معه حتى انتهى إلى داره، فدخل عليه وقال: أنت الذي تشرب الخمر؟ فقال: وأنت تتجسس عيوب المسلمين؟ فقال عمر: تبت أن لا أعود، فقال الرجل: وأنا تبت لا أعود)۔(ج:6،ص:84، دار الكتاب الثقافي الأردن – إربد )