نام رکھنے کا حکم

یزدان نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
89475
| تاریخ :
2025-12-02
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

یزدان نام رکھنا کیساہے

ہم نے بچے کا نام یزدان رکھا ہے، کیا یہ نام غلط ہے؟ یا گناہ ہے رکھنا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ”یزدان“ کے معنی ہیں: خدا، نیکی اور خیر کا خالق۔ (فیزوز اللغات )،’’مجوس‘‘ کے عقيدے کے مطابق خیر اور نیکی کا پیدا کرنے والا ”یزدان“ہےاور یہ اسکواپنا خدا تسلیم کرتے ہیں، اس تناظر میں یہ نام ایک فاسد عقیدے کی نمائندگی کرتا ہےجس کی وجہ سے یہ نام رکھنا جائز نہیں ، لہذا سائلہ کو چاہیے کہ یہ نام تبدیل کر کے کوئی اچھا سا اسلامی نام جیسے انبیاء علیہم السلام یا صحابہ کرام کے اسماء میں سے کسی نام کا انتخاب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی سنن أبي داؤد: عن أبي الدرداءؓ، قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم، وأسماء آبائکم، فأحسنوا أسمائکم۔ (باب في تغییر الإسم، النسخۃ الھندیۃ،ج: 2،ص: 474،ط: دار السلام رقم: ۴۹۴۸)
وفی الملل والنحل: ثم إن التثنية اختصت بالمجوس، حتى أثبتوا أصلين اثنين، مدبرين قديمين؛ يقتسمان الخير والشر، والنفع والضر، والصلاح والفساد، يسمون أحدهما: النور والآخر الظلمة. وبالفارسية: يزدان وأهرمن. ولهم في ذلك تفصيل مذهب الخ۔ (ج:2،ص:37،ط: دار المعرفۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89475کی تصدیق کریں
0     227
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات