السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب !
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے بیوی سے کہا کہ ”اٹھ کر ابھی کھانا کھا لو، ورنہ تمہیں تین طلاق “بار بار یہ الفاظ کہے، اس نے پانچ یا 6 منٹ بعد اٹھ کر کھانا کھا لیا، اب سوال یہ ہے اس نے اٹھ کر کھانا کھا لیا ،لیکن اب مجھے جو واضح یاد ہے ، وہ یہی الفاظ ہے ،لیکن میں شدید غصے میں تھا ،شاید کچھ اور بھی کہا ہو یا نہ کہا ہو، شک ہے، بس دل میں یہ خیال آتا ہے ، اب اس ضمن میں کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام؟ براہِ مہربانی مجھے آگاہ کر دیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ”اٹھ کر ابھی کھانا کھا لو، ورنہ تمہیں تین طلاق“یہ الفاظ تعلیقِ طلاق کے حکم میں ہیں، لہذااگرسائل کی بیوی نےاس وقت کسی دوسرےکام میں مشغول ہوئے بغیرکھانا کھا لیا، تو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
جبکہ سائل کے دل میں شدید غصے کی وجہ سےمحض شک پیداہونا کہ شاید کوئی اور الفاظ بھی کہہ دیے ہوں، تو شرعاً صرف شک اور وہم کی بنیاد پر طلاق واقع نہیں ہوتی، بلکہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے یقینی طورپرالفاظ کا یاد ہونا ضروری ہے،لہٰذاسائل کی بیوی پرمذکور واقعہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،ان دونوں کانکاح بدستور قائم ہے،البتہ سائل کو آئندہ غصے کی حالت میں بھی طلاق جیسے سنگین الفاظ استعمال کرنے سے مکمل اجتناب چاہیئے۔
كمافي صحيح البخاريؒ: حدثنا مسلم بن إبراهيم: حدثنا هشام: حدثنا قتادة، عن زرارة بن أوفى، عن أبي هريرةؓ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها، ما لم تعمل أو تتكلم" قال قتادة: إذا طلق في نفسه فليس بشيء،(کتاب الطلاق، باب: الطلاق في الإغلاق والكره، والسكران والمجنون وأمرهما، والغلظ والنسيان في الطلاق والشرك وغيره،ج5،ص2020،المرقم:4968،ط:دار ابن کثیر،دمشق)-
وفی الھندیۃ: قال لأخي امرأته: إن لم تدخل بيتي كما كنت فامرأتي طالق فإن كان بينهما كلام يدل على الفور فهو على الفور لأن الحال أوجب التقييد وإلا كانت اليمين على الأبد وتقع اليمين على الدخول المعتاد قبل اليمين حتى لو امتنع الأخ مرة كما كان معتادا يحنث كذا في خزانة المفتين (کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهماج1، ص429،ط:مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: إذا أراد الرجل أن يجامع امرأته فقال لها: إن لم تدخلي معي في البيت فأنت طالق فدخلت بعد ما سكنت شهوته وقع الطلاق عليها وإن دخلت قبل ذلك لا تطلق كذا في المحيط، (کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهماج1، ص430،ط:مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: رجل قال لامرأته عند خروجها: إن رجعت إلى منزلي فأنت طالق ثلاثا فجلست ولم تخرج زمانا ثم خرجت ثم رجعت فقال الزوج كنت نويت الفور قال بعضهم: لا يصدق قضاء وقال بعضهم: يصدق وهو الصحيح كذا في فتاوى قاضي خان، (کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهماج1، ص442،ط:مکتبۃ ماجدیۃ)-