تعزیتی اجلاس کاانعقاد کیسا ہے ؟
واضح ہو کہ تعزیت کے معنیٰ میت کے متعلقین کو تسلی دینےاور ان کے غم میں شرکت کا اظہار کرنےاور ان کو صبر کے فضائل سنا کر صبر کی تلقین کرنے کے ہیں ، اور اس طرح تعزیت کرنا مسنون اور باعث اجر وثواب ہے ، جس کے لیے شریعت ِ مطہرہ نے تین دن کی حد مقرر کی ہے ،البتہ اگر کوئی شخص سفر وغیرہ میں ہو تو اس کے لیے تین دن کے بعد بھی تعزیت کرنے میں حرج نہیں ۔
جبکہ تعزیتی جلسہ کا مطلب اگراجتماعی تعزیت کرنا ہو اس طور پر کہ میت اور میت کے پسماندہ گان کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں ہوں ،اورسب لوگوں کے پاس جا کر الگ الگ طور پر تعزیت کرنا دشوار ہو ،تو سب لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوکر تعزیتی جلسہ منعقد کریں ،اور سب کی طرف سے میت کے پسماندگان کو تسلی دیدی جائے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ،بشرطیکہ یہ جلسہ دیگر منکرات سے پاک ہو اور اسے لازم اور ضروری بھی نہ سمجھا جاتا ہو ۔
کما فی سنن ترمذی:عن عبد اللہ بن عمرعن النبیﷺ قال من عزیٰ مصاباً فلہ مثل أجرہ الخ ( الجنائز، باب ماجاء فی ثواب من عزیٰ مصاباً ج:1ص:205،ط:دارالسلام)۔
وفی سنن إبن ماجۃ: حدثنی قیس ابو عمارۃ مولی الأنصار سمعت عبد اللہ بن ابی بکر ابن محمد بن عمر بن حزم یحدث عن أبیہ عن جدہ عن النبی ﷺ أنہ قال مامن مؤمن یعزي أخاہ بمصیبتہ إلا کساہ اللہ سبحانہ من حلل الکرامۃ یوم القیامۃ الخ (باب ما جاء فی ثواب من عزی مصابا ص:328،ط:بشری)۔
و فی الشامیۃ تحت: (قولہ و بتعزیۃ أھلہ) أی تصبیرھم و الدعا لھم بہ (إلی قولہ)قال فی شرح المنیۃ و تستحب التعزیۃ للرجال والنساء اللاتی لا یفتن لقولہ ﷺ من عزی أخاہ بمصیبۃ کساہ اللہ من حل الکرامۃ یوم القیامۃ رواہ ابن ماجۃ وقولہ ﷺ من عزی مصابا فلہ مثل أجرہ رواہ الترمذی وابن ماجۃ و التعزیۃ أن یقول أعظم اللہ أجرک وأحسن عزاءک وغفر لمیتک الخ ( مطلب فی دفن المیت ج:2،ص:239،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: التعزیۃ لصاحب المصیبۃ حسن ( إلی قولہ ) و وقتھا حین یموت إلی ثلاثۃ أیام و یکرہ بعدھا إلا أن یکون المغزی و المغزی إلیہ غائبا فلا بأس بھا (إلی قولہ) و یستحب أن یقال لصاحب التعزیۃ غفر اللہ تعالی لمیتک و تجاوز عنہ و تغمدہ برحمتہ و رزقک الصبر علی مصیبتہ و أجرک علی موتہ (إلی قولہ) و لا بأس لأھل المصیبۃ أن یجلسوا فی البیت أو فی مسجد ثلاثۃ أیام و الناس یأتونھم و یعزونھم و یکرہ الجلوس علی باب الدار و ما یصنع فی بلاد العجم من فرش البسط والقیام علی قوارع الطرق من أقبح القبائح الخ ( الباب الحادی و العشرون فی الجنائز، ج: 1، ص: 167، ط: ماجدیۃ)۔