مکرمی ومحترمی حضرت مفتی صاحب !
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
میرابیٹاجس کی عمر اس وقت 4 سال ہے، بیٹے کانام میں نے محمد عصیمہ عمار( عصیمہ بضم العین )رکھا۔اس وقت کیفیت یہ ھے کہ بچہ کی طبیعت میں ضد،چڑچڑاپن،ہروقت ضدکرکےروتے رہناہے،خاندان کے بڑے حضرات کاکہناہے کہ اس بچےکانام تبدیل کردیا جائے ،نام تبدیل کرنے کی وجہ سے یہ کیفیات اس کی ختم ہوجائیں گی ۔سوال یہ ہے کہ نام کی وجہ سے بھی بچے پراثرپڑتاہے یانہیں ؟کیااس کانام تبدیل کردیا جائے اور اس نام کا معنی بھی لکھ دیاجائے؟جزاک اللہ خیرا!
"عصیمہ" ایک صحابی رسولؐ کا نام ہے اس کے معانی"پاک دامنی،حفاظت،بے گناہی،معصومیت"کے آتے ہیں،اسی طرح "عمار" بھی ایک صحابی رسولؐ کا نام ہے لہٰذا "محمد عصیمہ عمار" نام میں کوئی قباحت نہیں ہے،اس لیے اس نام کو تبدیل کرنے کی بھی شرعاً کوئی ضرورت نہیں ہے، اور نہ ہی بچے کی ضد اور چڑچڑے پن کی وجہ سے اس نام کو تبدیل کرنا لازم ہے، تاہم اگر خاندان کے بزرگوں کا اصرار ہو تو مذکور نام تبدیل کرکے کوئی اور اچھا نام رکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
كما في سنن ابي داود: عن أبي الدَّرداء، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم:إنّكم تُدعَوْنَ يومَ القيامَةِ باسمائِكُم وأسماءِ آبائكُم، فاحسِنُوا أسماءكم.( باب في تغيير الأسماء،ج:٢،ص:١٦٧٣،مط:البشرى)
و فيها ايضاََ: عن ابن عُمَرَ: أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم غيَّرَ اسمَ عاصيةَ، وقال: أنتِ جميلةٌ(باب في تغيير الاسمِ القَبيح، ج:٢،ص:١٦٧٤،مط:البشرى)
و فيها ايضاََ: عن سعيد بن المُسيَّب، عن أبيه عن جده، أن النبي-صلى الله عليه وسلم-قال له: ما اسمُكَ؟ قال: حَزْنٌ، قال: "أنت سهل " قال: لا، السهل يوطا ويمتهن، قال سعيد: فظننتُ أنَّه سيُصيبُنا بَعدَهُ حُزُونهٌ.( باب في تغيير الاسمِ القَبيح،ج:٢،ص:١٦٧٥،مط:البشرى)
و في البدايه النهايه: عصيمة، حليف لبني الحارث بن سواد، من أشجع، وقيل من بني أسد بن خزيمة الخ(فصل في تسمية من شهد بدرا من المسلمين،ج:٣،ص:٣٣٧،مط:دارالكتب العلميه)
و فيها ايضاََ:عمار بن ياسر العنسي المذحجي، من المهاجرين الأولين الخ(فصل في تسمية من شهد بدرا من المسلمين، ج:٣،ص:٣٣٧،مط:دارالكتب العلميه)